data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260216-03-4
الحمدللہ! رحمتوں، برکتوں، کامیابیوں اور کامرانیوں کا مبارک مہینے آمد آمد ہے۔ ہم کو چاہیے کہ اس ماہ مبارک سے بھرپور فائدہ اٹھائیں زندگی کا کوئی بھروسا نہیں، نہ جانے کتنے لوگ ہوں گے جو پچھلے رمضان المبارک میں ہمارے ساتھ موجود تھے لیکن اس مبارک ماہ میں وہ نہیں ہیں، اسی طرح ہم میں بھی نہ جانے کتنے لوگوں کے لیے یہ رمضان المبارک آخری ہو اور آنے والے رمضان المبارک سے پہلے ہی چلے جائیں۔ لہٰذا اس ماہ مبارک سے بھرپور فائدہ اٹھا کر خود کو بھی اور اپنے اپنے گھر والوں کو بھی جہنم کی عذاب سے بچانے کی کوشش کی جائے ان شاء اللہ۔ الحمدللہ بس چند دن ہی ہیں، انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے والی ہیں۔
استقبال رمضان نبی اکرمؐ کی سنت ِ متواترہ ہے دو ہجری جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو آپؐ نے صحابہ کرامؓ کو مسجد نبوی میں جمع فرما کر ایک مختصر اور جامع خطبہ رمضان کی فضیلت وبرکات کے حوالے سے ارشاد فرمایا اور پھر 10 ہجری تک آنے والے رمضان میں اس سلسلے کو جاری رکھا اس لیے آپ کے اس عمل کو سنت ِ متواترہ کہتے ہیں آپؐ نے نہ صرف رجب و شعبان کے چاند دیکھنے کی تاکید فرمائی بلکہ ایک دعا بھی تعلیم فرمائی ’’اے اللہ اس رجب اور شعبان کو ہمارے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنا اور ہمیں رمضان تک پہنچا دے‘‘۔ گویا کہ آپ مسلمانوں میں دو ماہ پہلے سے رمضان کو حاصل کرنے اور اس کی خیر اور برکت سمیٹنے کا شوق اور زوق پیدا کرنا چاہتے تھے۔ دراصل رجب اور شعبان توبہ و استغفار رجوع الی اللہ اور رمضان کی تیاری کے مہینے ہیں۔ نبی مہربانؐ نے فرمایا: ’’جو میری ایک متروک سنت کو زندہ کرے گا اسے سو شہیدوں کے برابر اجر ملے گا‘‘۔
آج الحمدللہ یہ سنت بڑے آب وتاب کے ساتھ زندہ ہے ہر طرف استقبال رمضان کا تذکرہ ہے۔ آج سے کوئی تیس سال پہلے 90 کی دہائی میں پورے ملک میں خصوصی کراچی میں کیا صورتحال تھی تاہم شہر کراچی میں تو یہ سنت متروک ہو چکی تھی اور وہ دور بھی ظلم جبر دہشت گردی و قتل و غارت گری کا دور تھا ہر طرف خوف تاری رہتا تھا دعوت دین پہچانے کا کیا طریقہ اختیار کریں پھر انہوں نے سوچا کیوں نہ ہم استقبال رمضان کی سنت کو زندہ کریں اس طرح کوئی مخالفت بھی نہیں کرسکے گا اور دعوت کا راستہ بھی نکل آئے گا۔ سر عام کوئی پروگرام رکھنا تو بڑی بات گھروں میں بھی مشکل ہوتا تھا لوگ خوف کی وجہ سے آتے ہی نہیں تھے اس کا حل یہ نکالا کہ ایک گاڑی پر بہت پاور فل ایکو ساؤنڈ لگایا اس وقت یہ بھی مشکل تھی کوئی ایکو ساؤنڈ والا ایکو ساؤنڈ لگانے کو تیار نہیں ہوتا تھا مگر کہتے ہیں کہ اللہ حنیف بھائی (کرن ساؤنڈ والے) کی کامل مغفرت فرمائے وہ راضی ہوگئے اور اسی طرح کوئی ہائی ایکس والا بھی ہمت نہیں کرتا تھا ایک امتیاز بھائی تھے وہ اس کار خیر کے لیے تیار ہو گئے اور ان دونوں نے آخری وقت تک ہمارا ساتھ دیا پھر یہ کیا کہ امام کعبہ الشیخ عبد اللہ سدیس کی مسحورکن قرآت لگائی اور لیاقت آباد کی ہر گلی میں پہنچ گئے لوگ قرآت سن کر گھروں سے باہر آجاتے اور خواتین گھروں کی چھتوں پر آکر قرآت سنتی تھیں اور ہم بس آخر میں کہتے الحمد للہ رمضان کی آمد آمد ہے، استقبال رمضان کیجیے نبی اکرمؐ کی ایک متروک سنت کو زندہ کیجیے اور سو شہیدوں کا اجر ثواب پائیے یہ کہنے کی ضرورت نہیں تھی ہم کون ہیں ہر ایک جانتا تھا کہ ان حالات میں جماعت اسلامی کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ الحمدللہ اس کا ایک فوری انعام تو یہ ملا کہ سکوت ٹوٹ گیا اور ہماری رسائی عام لوگوں تک دوبارہ ممکن ہو گئی اس کے بعد حالات بدلے اور ہر علاقے بلکہ پورے کراچی شہر میں استقبال رمضان کے پروگرامات شروع ہوئے اور تین روزہ استقبال رمضان کے فیملی پروگرامات کا اہتمام ہونے لگا الحمدللہ اب تو ہر طرف استقبال رمضان کا تذکرہ ہے واقعی یہ ایک ایسی روایت ہے جس کو ہمیشہ قائم رکھنا چاہیے اگر گوناگوں مصروفیات کی بناء پر کچھ کم ہو تو اپنی بھر پور توجہ اس جانب مبذول کرانی چاہیے۔ اب بھی جماعت اسلامی کراچی کی طرزِ پر پورے ملک میں استقبال رمضان کے پروگرام بنائے جائیں ایک بہترین ماحول بنایا جائے تاکہ مسلمانوں کی دل و دماغ روزوں پر آمادہ ہو سکے۔ لوگ خوشی خوشی اللہ تعالیٰ کی عبادات کو ترجیح دیں روزہ رکھیں۔ ربّ کریم کو منائیں، اللہ کریم کو منانے کا ایک بہت بڑا اور خوبصورت موقع ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اس ماہ مبارک میں فرض روزے نصیب فرمائے، تراویح نصیب کرے، نوافل اور خیرات و صدقہ کی توفیق و طاقت دے کیونکہ ایک فرض کے بدلہ میں ستر فرائض کا اجر ملتا ہے اسی ہر چیز کے ہر عمل کے بدلے اسی طرح ہی بڑھا چڑھا کر ملتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: استقبال رمضان رمضان المبارک رمضان کے رمضان کی ساو نڈ
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔