جرائم 48 فیصد کم ہو گئے، پولیس ہر شہری کو سر یا جناب کہے، مریم نواز: اصلاحات کیلئے 3 ماہ کی ڈیڈلائن
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پولیس اصلاحات کیلئے تین ماہ کی ٹائم لائن مقرر کر دی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے پولیس کو ہر شہری کو سر کہہ کر پکارنے کا حکم دیا ہے۔ ہر تھانے کے باہر پولیس سے متعلق شکایات کے ازالے کے لئے پنک بٹن نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ہر تھانے کے 10اہلکاروں پر باڈی کیم نصب کرنے اور انویسٹی گیشن کی ویڈیو اور آڈیو ریکاڈنگ کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے باڈی کیم کے لئے فنڈز کی منظوری دے دی۔ پولیس سے متعلق چھوٹی چھوٹی شکایات دو تین گھنٹے کے اندر حل کر کے ازالے کا حکم دیا ہے۔ پنجاب بھر میں 14ہزار باڈی کیم اور700 پنک بٹن لگائے جائیں گے، پنجاب میں ایف آئی آر کے اندراج کے لئے آن لائن ٹریکنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ کاغذات اور شناختی کارڈ کی گمشدگی کی ایف آئی آر آن لائن درج کرانے کا سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے آئی جی اوردیگر پولیس افسروں کو خود فون کر کے عوامی فیڈ بیک لینے کا حکم دے دیا ہے۔ لاہور سمیت پنجاب میں ٹریفک کو لین میں چلنے کا پابند بنانے اور ضلعی انتظامیہ، سی اینڈ ڈبلیو اورٹیپا کو لین مارکنگ کی ہدایت کی ہے۔ لوگوں کو سڑک عبور کرنے کے طریقے کار سے آگاہی کا حکم دیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے ٹریفک پولیس ون ایپ اور سیف سٹی مانیٹرنگ ایپ کا بھی آغاز کیا ۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں پولیس اصلاحات کا جائزہ لیاگیا۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے پولیس اصلاحات کا جامع پلان طلب کر لیا ہے۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ایف آئی آر کے اندرا ج کیلئے پولیس پانچ سوال کر سکے گی۔پنجاب کے کرائم میں مجموعی طورپر 48 فیصد اوربڑے جرائم میں 80 فیصد تک کمی نوٹ کی گئی۔ 80منٹ میں رسپانس ٹائم دینے سے منفی فیڈ بیک کم ہوا۔ ساہیوال اورگجرات جیسے شہروں میں بڑے جرائم کی کال نہ ہونے کے برابر ہے۔ پراپرٹی کے جھگڑے کم ہونے سے کرائم میں کمی آئی۔ پنجاب میں ہر سال ایک کروڑ 68 لاکھ لوگ تھانوں کا وزٹ کرتے ہیں۔ 68 فیصد لوگ پولیس خدمت مرکز کی سروسز کے لئے آتے ہیں۔ ایف آئی آر کے دیر سے اندراج کی وجہ سے مجرم فائدہ اٹھاتا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ بچوں کے ساتھ درندگی کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ پولیس میں بڑے جرم پر چھوٹی سزا اور چھوٹی غلطی پربڑی سزا مل جاتی ہے۔ابھی نہیں تو پھر کبھی پولیس ریفارمز نہیں کرسکتے۔ پولیس سے صرف مجرموں کو ڈرنا چاہیے عوام کو نہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہاکہ عوام کو یقین ہونا چاہیے کہ پولیس مشکل میں ان کی مدد کرے گی۔ پنجاب میں پولیس کیلئے ضابطہ اخلاق اور ٹریننگ ضروری ہے۔ میرے ہوتے ہوئے کوئی بیٹی اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرے یہ برداشت نہیں۔ خواتین تھانے نہیں آسکتی تو موبائل پولیس سٹیشن چل کر ان کے پاس شکایت کے ازالے کیلئے جائیں۔ شکایت کرنے والی خاتون کی تذلیل کی بجائے حوصلہ افزائی اور مدد کی جائے۔ بچے ڈر سے بولتے نہیں، تعلیمی اداروں میں بدسلوکی کی جرات نہیں ہونی چاہیے۔ بچوں کی حفاظت اور خیال نہ رکھنے والے والدین کیلئے قوانین متعارف کرانے چاہتے ہیں۔ خبر آتی ہے کہ آوارہ کتے بچے کو نوچ کر کھا گئے، تو والدین کہا ں تھے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ پیشگی اقدامات کیلئے پولسنگ کو موثر بنانا ہو گا، رویوں میں تبدیلی بہت ضروری ہے۔ غریب لوگ ڈر کے مارے پولیس کے پاس نہیں جاتے۔ ہراسمنٹ کی شکایت پر پولیس کا رویہ سائل کے ساتھ توہین آمیز ہوتا ہے۔ شاباش اگر عوام کے سامنے دی جاتی ہے تو سزا بھی عوام کے سامنے دی جائے گی۔ لوگوں کا سسٹم پر یقین بحال ہونا چاہیے۔ پولیس کی گرومنگ کی جائے اور موک سیشن کرائے جائیں۔ اب کسی پولیس اہلکار کو سر اورجناب کے بغیر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر اوپر کی سطح تک کرپشن ہوگی تو اثرات تھانہ لیول تک جائیں گے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہاکہ عوام سے زیادہ کوئی وی آئی پی نہیں۔ وی آئی پی کے راستے سے عوام کو ہٹانے کیلئے تذلیل کی اجازت نہیں دیں گے۔ کرکٹ ٹیم کو سکیورٹی ضرور دیں لیکن عوام کی عزت کا بھی خیال رکھیں۔ یہ پنجاب ہے،کوئی ایسا علاقہ نہیں جہاں غریب کو کو ئی پوچھنے والا نہ ہو۔ پولیس میں اصلاحات کیلئے شارٹ ٹرم، مڈٹرم اور لانگ ٹرم پلان تیار کیے جائیں۔ لوگوں نے بسنت پر مثبت ردعمل دیا ہے۔ روڈز پر ون وے کی خلاف ورزی تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے۔ قانون کو بلاامتیاز نافذ کرنے کے اچھے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ناکوں پر کھڑے پولیس اہلکاروں کی طرف سے اوئے کہہ کر بلانے کا کلچر ختم کیا جائے۔ غلطیوں کو چھپانے کا رویہ بدلنا ہو گا، شکایت لگانے والے سائل کو مجرم بنانا افسوسناک ہے۔ پولیس میں پڑھے لکھے نوجوانوں بچوں کو سامنے لایا جائے۔ کالج کے طلبہ کو پولیسنگ سکھائی جائے۔ سٹیزن مینجمنٹ سسٹم اور ای ٹیگ انفارمیشن سسٹم لایا جائے۔ دریں اثناء وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مظفر گڑھ میں ٹینکر ٹکرانے سے 4 موٹرسائیکل سواروں اور بہاولپور سے کراچی جانے والی بس کے ٹریلر سے تصادم میں 11 مسافروں کے جاں بحق ہونے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلی مریم نواز شریف نے سوگوار خاندانوں سے اظہار ہمدردی و تعزیت کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ’’مریم نواز سکول اینڈ ریسورس سنٹر فار آٹزم‘‘ کا دورہ کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سکول کے بچوں سے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے بچوں سے اظہار شفقت کیا اور بچوں کے ساتھ گھل مل گئیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو معاون خصوصی ثانیہ عاشق جبین نے بریفنگ دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پنجاب مریم نواز شریف مریم نواز شریف نے مریم نوازشریف نے نوازشریف نے کہ فیصلہ کیا گیا ایف ا ئی ا ر کے لئے دیا ہے کا حکم
پڑھیں:
اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
پنجاب اسمبلی (فائل فوٹو)۔اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کے لیے پنجاب اسمبلی میں ارکان کے لیے جدید ٹیبلٹس انسٹال کر دییے گئے۔
لاہور سے ترجمان پنجاب اسمبلی کےمطابق صوبائی اسمبلی کا اگلا اجلاس پیپر لیس ہو گا، 380 ٹیبلٹس یورپین یونین کے آئی پی 5 پروگرام کے تحت پنجاب اسمبلی کو فراہم کیے گئے۔
ترجمان کے مطابق ایپلیکیشن پی آئی ٹی بی نے محکمہ قانون اور اسمبلی آئی ٹی ٹیم کی مشاورت سے تیار کیا، جو صرف اسمبلی کارروائی کے لیے ہے۔
چوہدری عامر حبیب کے مطابق اس فیصلہ سے گرین انرجی کے تحت توانائی کی بچت بھی ہو گی۔