امریکا میں تعلیم کے مواقع، یو ایس ای ایف پی کے تحت تعلیمی میلے میں طلبہ کی بھرپور شرکت
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن ان پاکستان (یو ایس ای ایف پی) کے تحت اسلام آباد میں، امریکا میں تعلیم کے حوالے سے ایجوکیشن فیئر کا انعقاد کیا جس میں 16 امریکی یونیورسٹیوں نے اپنے اسٹالز لگائے اور طلبہ کو رہنمائی فراہم کی۔
ایونٹ کے لئے ملک بھر سے دو ہزار طلبہ نے رجسٹر کیا تھا، اور پاک بھارت میچ کے باوجود طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔ جڑواں شہروں کے علاوہ دور دراز سے آئے طلبہ نے اسٹالز پر موجود یونیورسٹی نمائندوں سے امریکا میں تعلیم کے حوالے سے معلومات حاصل کی۔
یو ایس ای ایف پی کی سینیئر ایجوکیشن آفیسر شزا طارق نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ طلبہ کی دلچسپی بہت حوصلہ افزا ہے اور یہاں پر طلبہ کو امریکا میں تعلیمی کیریئر کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جا رہی ہیں کہ پاکستانی طلبہ کیسے داخلے سے لے کر امریکا روانگی تک کے تمام مراحل پورے کر سکتے ہیں۔
طلبہ نے تعلیمی میلے کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ درکار معلومات فیس اسٹرکچر اور کورسز کے بارے میں اچھے سے رہنمائی کی جا رہی ہے۔ امریکی یونیورسٹیاں دنیا بھر میں سب سے زیادہ معیاری سمجھی جاتی ہیں۔ طلبہ نے کہا کہ وہ بین الاقوامی یونیورسٹیوں سے تعلیم کے لیے پرجوش ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا میں تعلیم تعلیم کے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔