طیارہ بردار امریکی بحری جہازوں کا دور اختتام کے قریب
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز: تجزیے کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز اب بھی ایک قیمتی عسکری اثاثہ ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب وہ اپنی حکمتِ عملی کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالے، مثلاً آپریشنل رینج میں اضافہ، منتشر انداز میں کارروائیاں، اور آبدوزوں و بغیر عملے کے نظاموں (Unmanned Systems) کے ساتھ زیادہ گہرا انضمام۔ بعض عسکری تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ طیارہ بردار بحری جہازوں کا دور بتدریج ختم ہو رہا ہے اور یہ پلیٹ فارم بھی ماضی کے جنگی بحری جہازوں کی طرح متروک ہونے کے قریب ہیں۔ خصوصی رپورٹ:
ایک امریکی عسکری تجزیاتی ویب سائیٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ ہائپرسونک میزائلوں کی بڑے پیمانے پر بارش طیارہ بردار امریکی بحری جہازوں کو مفلوج کر سکتی ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بینالاقوامی گروپ کے مطابق چین کی ’’علاقائی ممانعت‘‘ (Area Denial) کی حکمتِ عملی اس بنیاد پر قائم ہے کہ امریکہ کے طیارہ بردار بحری جہازوں اور ان کے ہمراہ بحری بیڑوں کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں، ہائپرسونک گلائیڈرز اور مسلسل پھیلتے ہوئے نگرانی و انٹیلیجنس نیٹ ورک کے ذریعے نشانہ بنایا جائے، یہ نیٹ ورک خاص طور پر متحرک بحری جہازوں کی تلاش، ان کے مقام کی تصدیق اور ان پر حملے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے امریکی عسکری ویب سائیٹ 19FortyFive نے لکھا ہے کہ ناقدین کے مطابق یہ صورتِ حال طیارہ بردار بحری جہازوں کو اسی انجام سے دوچار کر سکتی ہے جو ماضی میں جنگی بحری جہازوں (Battleships) کا ہوا تھا، خاص طور پر ان بیانات کے بعد جن میں کہا گیا ہے کہ ہائپرسونک میزائلوں کی اجتماعی فائرنگ کسی بھی تصادم کے ابتدائی مرحلے میں ہی ان جہازوں کو ناکارہ بنا سکتی ہے۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ حرکت میں موجود طیارہ بردار بحری جہاز کو نشانہ بنانا محض طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل رکھنے سے آسان نہیں ہو جاتا۔ اس کے لیے مسلسل ہدف بندی، دورانِ پرواز راستے کی تازہ کاری، اور دفاعی تہوں، جیسے فضائی دفاع، الیکٹرانک جنگ، فریب دہ نظام اور روک تھام کرنے والے میزائلوں کو عبور کرنا ضروری ہوتا ہے۔
تجزیے کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز اب بھی ایک قیمتی عسکری اثاثہ ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب وہ اپنی حکمتِ عملی کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالے، مثلاً آپریشنل رینج میں اضافہ، منتشر انداز میں کارروائیاں، اور آبدوزوں و بغیر عملے کے نظاموں (Unmanned Systems) کے ساتھ زیادہ گہرا انضمام۔ بعض عسکری تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ طیارہ بردار بحری جہازوں کا دور بتدریج ختم ہو رہا ہے اور یہ پلیٹ فارم بھی ماضی کے جنگی بحری جہازوں کی طرح متروک ہونے کے قریب ہیں۔ گزشتہ سال، پیٹ ہیگست، امریکہ کے وزیرِ جنگ نے کہا تھا کہ چین کے ہائپرسونک میزائل کسی بھی ممکنہ تصادم کے آغاز کے چند ہی منٹوں میں امریکہ کے تمام طیارہ بردار بحری جہازوں کو غرق کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہماری عالمی طاقت کا انحصار طیارہ بردار بحری جہازوں پر ہو، اور اگر صرف 15 ہائپرسونک میزائل پہلے 20 منٹ میں ہمارے 10 طیارہ بردار بحری جہاز تباہ کر سکیں، تو پھر کیا ہوگا؟۔ اگرچہ یہ بیانات ممکن ہے مبالغہ آمیز ہوں اور دفاعی بجٹ میں اضافے کے لیے حمایت حاصل کرنے کے مقصد سے دیے گئے ہوں، تاہم تجزیہ نگاروں کے مطابق ہیگست کی بات کا ایک پہلو درست ہے: چین نے اپنی فوجی طاقت کو ایک واضح مقصد کے تحت جدید بنایا ہے، یعنی امریکہ کا مقابلہ کرنا اور اس پر برتری حاصل کرنا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: طیارہ بردار بحری جہازوں طیارہ بردار بحری جہاز جہازوں کو کے مطابق
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔