Islam Times:
2026-07-24@01:01:42 GMT

طیارہ بردار امریکی بحری جہازوں کا دور اختتام کے قریب

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

طیارہ بردار امریکی بحری جہازوں کا دور اختتام کے قریب

اسلام ٹائمز: تجزیے کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز اب بھی ایک قیمتی عسکری اثاثہ ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب وہ اپنی حکمتِ عملی کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالے، مثلاً آپریشنل رینج میں اضافہ، منتشر انداز میں کارروائیاں، اور آبدوزوں و بغیر عملے کے نظاموں (Unmanned Systems) کے ساتھ زیادہ گہرا انضمام۔ بعض عسکری تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ طیارہ بردار بحری جہازوں کا دور بتدریج ختم ہو رہا ہے اور یہ پلیٹ فارم بھی ماضی کے جنگی بحری جہازوں کی طرح متروک ہونے کے قریب ہیں۔ خصوصی رپورٹ:

ایک امریکی عسکری تجزیاتی ویب سائیٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ ہائپرسونک میزائلوں کی بڑے پیمانے پر بارش طیارہ بردار امریکی بحری جہازوں کو مفلوج کر سکتی ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین‌الاقوامی گروپ کے مطابق چین کی ’’علاقائی ممانعت‘‘ (Area Denial) کی حکمتِ عملی اس بنیاد پر قائم ہے کہ امریکہ کے طیارہ بردار بحری جہازوں اور ان کے ہمراہ بحری بیڑوں کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں، ہائپرسونک گلائیڈرز اور مسلسل پھیلتے ہوئے نگرانی و انٹیلیجنس نیٹ ورک کے ذریعے نشانہ بنایا جائے، یہ نیٹ ورک خاص طور پر متحرک بحری جہازوں کی تلاش، ان کے مقام کی تصدیق اور ان پر حملے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے امریکی عسکری ویب سائیٹ 19FortyFive نے لکھا ہے کہ ناقدین کے مطابق یہ صورتِ حال طیارہ بردار بحری جہازوں کو اسی انجام سے دوچار کر سکتی ہے جو ماضی میں جنگی بحری جہازوں (Battleships) کا ہوا تھا، خاص طور پر ان بیانات کے بعد جن میں کہا گیا ہے کہ ہائپرسونک میزائلوں کی اجتماعی فائرنگ کسی بھی تصادم کے ابتدائی مرحلے میں ہی ان جہازوں کو ناکارہ بنا سکتی ہے۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ حرکت میں موجود طیارہ بردار بحری جہاز کو نشانہ بنانا محض طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل رکھنے سے آسان نہیں ہو جاتا۔ اس کے لیے مسلسل ہدف بندی، دورانِ پرواز راستے کی تازہ کاری، اور دفاعی تہوں، جیسے فضائی دفاع، الیکٹرانک جنگ، فریب دہ نظام اور روک تھام کرنے والے میزائلوں کو عبور کرنا ضروری ہوتا ہے۔

تجزیے کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز اب بھی ایک قیمتی عسکری اثاثہ ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب وہ اپنی حکمتِ عملی کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالے، مثلاً آپریشنل رینج میں اضافہ، منتشر انداز میں کارروائیاں، اور آبدوزوں و بغیر عملے کے نظاموں (Unmanned Systems) کے ساتھ زیادہ گہرا انضمام۔ بعض عسکری تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ طیارہ بردار بحری جہازوں کا دور بتدریج ختم ہو رہا ہے اور یہ پلیٹ فارم بھی ماضی کے جنگی بحری جہازوں کی طرح متروک ہونے کے قریب ہیں۔ گزشتہ سال، پیٹ ہیگست، امریکہ کے وزیرِ جنگ نے کہا تھا کہ چین کے ہائپرسونک میزائل کسی بھی ممکنہ تصادم کے آغاز کے چند ہی منٹوں میں امریکہ کے تمام طیارہ بردار بحری جہازوں کو غرق کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہماری عالمی طاقت کا انحصار طیارہ بردار بحری جہازوں پر ہو، اور اگر صرف 15 ہائپرسونک میزائل پہلے 20 منٹ میں ہمارے 10 طیارہ بردار بحری جہاز تباہ کر سکیں، تو پھر کیا ہوگا؟۔ اگرچہ یہ بیانات ممکن ہے مبالغہ آمیز ہوں اور دفاعی بجٹ میں اضافے کے لیے حمایت حاصل کرنے کے مقصد سے دیے گئے ہوں، تاہم تجزیہ نگاروں کے مطابق ہیگست کی بات کا ایک پہلو درست ہے: چین نے اپنی فوجی طاقت کو ایک واضح مقصد کے تحت جدید بنایا ہے، یعنی امریکہ کا مقابلہ کرنا اور اس پر برتری حاصل کرنا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: طیارہ بردار بحری جہازوں طیارہ بردار بحری جہاز جہازوں کو کے مطابق

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ