شاہین، بابر اور شاداب خان کی جگہ نئے پرفارمرز کو موقع دیا جائے، محمد یوسف
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
گزشتہ روز آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میں روایتی حریف بھارت سے شکست کے بعد قومی ٹیم کی کارکردگی پر شدید تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، جبکہ سابق کپتان محمد یوسف نے بھی کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
مزید پڑھیں: میں اگر فیصلہ لینا چاہوں تو شاہین، بابر اور شاداب کو باہر بیٹھادوں، شاہد آفریدی شدید غصے میں آگئے
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں محمد یوسف کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ شاہین آفریدی، بابراعظم اور شاداب خان کی جگہ نئے پرفارمرز کو موقع دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی20 اسکواڈ کو کمزور ٹیموں کے خلاف نمائشی فتوحات نہیں بلکہ بڑے مقابلوں میں حقیقی کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی درکار ہیں۔
بھارت کے خلاف اہم میچ میں شکست کے بعد شائقینِ کرکٹ اور ماہرین کی جانب سے ٹیم سلیکشن، حکمت عملی اور سینئر کھلاڑیوں کی فارم پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر کامیابی کے لیے ٹیم میں جرات مندانہ فیصلے اور نئی توانائی لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ کو تیسرے ون ڈے میں بھی شکست، سیریز پاکستان کے نام
قومی ٹیم کی آئندہ حکمت عملی اور ممکنہ تبدیلیوں پر اب نظریں سلیکشن کمیٹی اور ٹیم مینجمنٹ کے فیصلوں پر مرکوز ہیں، جبکہ شائقین کو امید ہے کہ مستقبل میں ٹیم بہتر کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اترے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ آئی سی سی سابق کپتان محمد یوسف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس شاداب خان شاہین آفریدی، بابراعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ سابق کپتان محمد یوسف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس شاہین ا فریدی بابراعظم محمد یوسف
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔