نجکاری کا بڑا قدم: عارف حبیب گروپ نے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کے مکمل کنٹرول کی راہ ہموار کر دی!
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
عارف حبیب گروپ کنسورشیم نے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) میں حکومت کے باقی ماندہ 25 فیصد حصص بھی خریدنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد قومی فضائی کمپنی کا مکمل اختیار اس کے پاس آ جائے گا۔ عارف حبیب لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر شاہد علی حبیب نےکہا ہے کہ پی آئی اے کے 100 فیصد حصص کی خریداری کے بعد یہ مکمل طور پر نجی حیثیت میں کام کر سکے گی۔انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ’کنسورشیم نے اپنا ذہن بنا لیا ہے کہ اس نے 25 فیصد باقی ماندہ حصص بھی خریدنے ہیں۔ ان کے مطابق اپریل میں یہ فیصلہ لینا ہے اور اس کے بعد اگلے 12 مہینے میں اس کی ادائیگی کرنی ہے۔‘انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے 100 فیصد حصص کی خریداری کے بعد یہ مکمل طور پر نجی حیثیت میں کام کر سکے گی یعنی ائیر لائن کا مکمل کنٹرول نجی شعبے کے پاس ہو گا اور ائیر لائن سرکاری نامزد ارکان سے آزاد ہو جائے گی۔واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135ارب روپے کے عوض 75 فیصد حصص حاصل کیے تھے۔ حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجی کاری کا مقصد خسارے میں جانے والی فضائی کمپنی کو عملی تنظیمِ نو، طیاروں کے بیڑے میں توسیع اور مسافروں کو فراہم کی جانے والی خدمات میں بہتری کے ذریعے منافع بخش بنانا تھا۔ گزشتہ دسمبر میں 75 فیصد حصص کی نجکاری کے بعد حکومت نے کنسورشیم کو باقی حصص کی خریداری کے لیے 90 روز کی مہلت دی، جن کی مالیت تقریباً 45 ارب روپے بتائی گئی ہے اور آخری تاریخ اپریل کے اختتام پر مقرر ہے۔ جنوری میں طے پانے والے معاہدے کے تحت رقوم کی منتقلی کے لیے 12 ماہ کی مدت رکھی گئی ہے، جس سے اسے قابلِ عمل قرار دیا گیا ہے۔کامیاب کنسورشیم میں فاطمہ فرٹیلائزر 34.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پی ا ئی اے فیصد حصص کے بعد حصص کی
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔