رینجرز کی کراچی میں کارروائی، 3 انتہائی مطلوب سہولتکار دہشتگرد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
رینجرز اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے چکرا گوٹھ کورنگی میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم ’فتنہ الہندوستان‘ سے تعلق رکھنے والے 3 انتہائی مطلوب سہولت کار دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان رینجرز کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع پر کی گئی، جس کے دوران ملزمان کو حراست میں لے کر ان کے قبضے سے 5 کلو بارودی مواد، ڈیٹونیٹر اور بال بیرنگ برآمد کرلیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان حکومت کا بڑا اقدام: 39 انتہائی مطلوب دہشتگردوں کے سروں کی قیمت مقرر، ایک ارب 38 کروڑ روپے انعام کا اعلان
ترجمان کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد سے انتہا پسندی پر مبنی لٹریچر اور ایک لیپ ٹاپ بھی برآمد ہوا ہے، جس کا فرانزک تجزیہ کیا جارہا ہے۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان طلبا کو کالعدم تنظیم میں شمولیت پر آمادہ کرنے اور ذہن سازی کرنے میں ملوث تھے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ملزمان نے کراچی کے حساس مقامات پر دہشت گرد کارروائی کے لیے بارودی مواد ایک خفیہ ٹھکانے پر چھپا رکھا تھا، جسے بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
رینجرز ترجمان نے بتایا کہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ انہیں قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کردیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دہشتگردی رینجرز گرفتار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ