امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ طویل جنگ کی تیاری کر رہی ہے، خبرایجنسی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ طویل جنگ کی تیاری کر رہی ہے، خبرایجنسی WhatsAppFacebookTwitter 0 16 February, 2026 سب نیوز
واشنگٹن:(آئی پی ایس) غیرملکی خبرایجنسی نے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایران کے خلاف ہفتوں پر محیط ممکنہ طویل جنگ کی تیاری کر رہی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان ماضی کے مقابلے میں بدترین کشیدگی کا باعث ہوسکتی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عہدیداروں نے اس منصوبے کی حساسیت کے پیش نظر شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط بتایا کہ امریکی فوج تیاریوں میں مصروف ہے اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کا حکم دیا جاتا ہے تو اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
عہدیداروں نے اس اقدام کو ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارت کاری کے عمل کو خطرات قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت جاری منصوبہ بندی زیادہ پیچیدہ ہے اور ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس مہم میں امریکی فوج صرف ایرانی جوہری تنصیبات ہی نہیں بلکہ ایرانی ریاست اور سلامتی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے تاہم انہوں نے اس حوالے سے مخصوص تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا۔
مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ امریکا کو ایران کے جوابی حملے کا خدشہ ہے اور اس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ ساتھ دونوں جانب سے جوابی حملوں اور انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ایران پر حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق سوال وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی سے کیا گیا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے تمام آپشنز کھلے رکھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی مسئلہ پر مختلف پہلوؤں پر خیالات سنتے ہیں لیکن حتمی فیصلہ اس بنیاد پر کرتےہیں کہ ہمارے ملک اور قومی سلامتی کے لیے کیا بہترین ہے۔
دوسری جانب پینٹاگون نے اس حوالے سے کوئی ردعمل نہیں دیا ہے تاہم امریکا نے گزشتہ برس دو ایئرکرافٹ کیریئرز بھیج دیے تھے جب جون میں ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کیے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماہرین کا خیال ہے امریکی فوج کو ایران کے خلاف اس طرح کے آپریشن سے کہیں زیادہ خطرات کا سامنا ہوگا کیونکہ ایران کے پاس میزائل کا وسیع ذخیرہ موجود ہے اور ایران کے جوابی حملوں میں خطے کا تنازع وسیع ہونے کا خدشہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو مسلسل حملوں کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں اور جوہری پروگرام ختم کرنے کے لیے بمباری کی دھمکی بھی دی تھی اور جمعرات کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا تھا سفارتی حل کے برعکس اقدام انتہائی دلخراش ہوگا۔
ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایرانی سرزمین پر حملوں کی صورت میں وہ امریکا کے کسی بھی فوجی مرکز پر حملہ کرسکتے ہیں۔
امریکا کے فوجی بیسز پورے مشرق وسطیٰ میں بشمول اردن، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ترکیے میں موجود ہیں۔
خیال رہے کہ ایران اور امریکا عمان کی ثالثی میں منگل کو جنیوا میں مذاکرات کریں گے جہاں امریکی نمائندہ اسٹیو ویٹکوف اور جیرڈ کشنر شریک ہوں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراحسن اقبال نو منتخب وزیرِاعظم بنگلا دیش کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کےلئے روانہ احسن اقبال نو منتخب وزیرِاعظم بنگلا دیش کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کےلئے روانہ ٹی 20ورلڈ کپ،پاکستانی بیٹنگ لائن فلاپ ، بھارت نے 61رنز سے عبرتناک شکست دیدی وفاقی حکومت نے گریڈ 20کے پولیس افسر کیپٹن (ر)ملک لیاقت علی کو آزاد کشمیر پولیس کا آئی جی تعینات کردیا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ، بھارت نے پاکستان کو جیت کیلئے 176رنز کا ہدف دیدیا موٹروے پولیس کی ایمانداری کی مثال، گمشدہ 53لاکھ تلاش کر کے مالک کے حوالے کر دیے گئے امریکی ناظم الامور امریکااور پاکستان تعلقات کو مضبوط بنانے کیلئے مصروفCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایران کے خلاف امریکی فوج
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز