محورِ مزاحمت حالیہ ٹارگٹڈ قتل کی کارروائیوں کے صدمے سے نکل چکا ہے، لاریجانی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں علی لاریجانی نے کہا کہ تہران منصفانہ جوہری مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ ان کے ذریعے خدشات کا ازالہ ہو اور قومی سلامتی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ تہران منصفانہ جوہری مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ ان کے ذریعے خدشات کا ازالہ ہو اور قومی سلامتی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ اندرونی کمزوریاں دور کر لی گئی ہیں اور محورِ مزاحمت حالیہ ٹارگٹڈ حملوں (قتل کی کارروائیوں) کے صدمے سے نکل چکا ہے۔ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے مسقط میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ وہ امریکی مطالبات کے جواب میں کوئی تحریری جواب ساتھ نہیں لے کر گئے تھے، اور جو کچھ ہوا وہ محض نقطۂ نظر کا تبادلہ تھا، یہ عمل اب بھی جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک بھی ایران کے جوہری معاملے کے سیاسی حل کے حامی ہیں۔
لاریجانی نے زور دے کر کہا کہ تہران مثبت مذاکرات کو خوش آمدید کہتا ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب یہ مذاکرات منصفانہ اور معقول ہوں اور انہیں وقت ضائع کرنے یا جوہری فریم ورک سے ہٹ کر دیگر امور مسلط کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ ان کے مطابق ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول سے روکنا ایک ایسا ممکنہ مشترکہ نکتہ ہے جس کی بنیاد پر کسی معاہدے کی تشکیل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی کو این پی ٹی کے دائرے میں قبول کرتا ہے، تاہم ’’صفر افزودگی‘‘ (غنی سازی صفر) کے تصور کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا۔ لاریجانی نے کہا کہ جوہری علم کو کسی سیاسی فیصلے سے ختم نہیں کیا جا سکتا اور ایران کو طبی اور تحقیقی مقاصد کے لیے جائز جوہری ضروریات حاصل ہیں۔
لاریجانی نے بتایا کہ حالیہ مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام پر کوئی بات نہیں ہوئی، کیونکہ یہ پروگرام قومی سلامتی اور دفاعی بازدارندگی کے نظام کا حصہ ہے اور قابلِ مذاکرہ نہیں۔ صیہونی حکومت کے اثر و رسوخ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ کسی ’’غیر معمولی دراندازی‘‘ کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ بعض اداروں میں احتیاط اور چوکسی کی سطح کم ہونے کا شاخسانہ تھا۔ ان کے مطابق حکومت نے ان کمزوریوں کو ادارہ جاتی سطح پر دور کر دیا ہے، جاسوسی نیٹ ورکس کو نقصان پہنچایا ہے اور مجموعی ہوشیاری اور آمادگی میں اضافہ کیا گیا ہے۔
لاریجانی نے حزباللہ لبنان کو پہنچنے والے بھاری نقصانات اور حالیہ جھڑپوں میں تقریباً تین ہزار افراد کی شہادت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس تحریک نے اپنی صلاحیتیں بحال کر لی ہیں اور اب اسرائیل کا مقابلہ کرنے کی بھرپور استعداد رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وار کا لگنا جنگ کے خاتمے کے مترادف نہیں ہوتا، کیونکہ جنگ کی فطرت ہی ضربوں کے تبادلے پر مبنی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل بھی میزائل حملوں کی زد میں آیا اور بالآخر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوا۔ لاریجانی کے مطابق اصل معیار نقصانات کی تعداد نہیں بلکہ مقابلہ جاری رکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
غزہ اور حماس کے حوالے سے گفتگو میں لاریجانی نے کہا کہ اسرائیل نے اس خطے کو تباہ کیا اور وسیع پیمانے پر جرائم کا ارتکاب کیا، لیکن وہ حماس کی موجودگی کو ختم کرنے میں ناکام رہا۔ ان کے بقول، دو سال سے زائد شدید بمباری کے باوجود حماس اب بھی غزہ کی انتظامیہ سنبھالے ہوئے ہے۔ لاریجانی نے ایک وسیع پیمانے کی جنگ کے امکانات کو کم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے تجربات سے ثابت ہوتا ہے کہ کشیدگی میں اضافہ اس کے آغاز کرنے والوں کے حق میں نہیں ہوتا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران تمام ممکنہ منظرناموں کے لیے تیار ہے، تاہم وہ تنازع کو بھڑکانے کا خواہاں نہیں۔
انہوں نے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر جیسے ممالک کے فوجی کارروائی کی مخالفت میں مؤقف کو خطے میں ممکنہ دھماکہ خیز صورتحال کے خطرات کے ادراک کی علامت قرار دیا، اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات مضبوط بنانے کے لیے ایران کی آمادگی کا اظہار کیا۔ لاریجانی نے ثالثی کے عمل میں قطر کے کردار کی بھی تعریف کی۔ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے کہا کہ چین اور روس کے ساتھ تعاون مشترکہ مفادات پر مبنی ہے اور سلامتی کونسل میں ایران کی حمایت ان کے ساتھ سیاسی شراکت کی عکاس ہے۔ ان کے مطابق ایران کا مشرق کی طرف جھکاؤ مغرب کی وعدہ خلافیوں کا نتیجہ ہے۔ آخر میں لاریجانی نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن دھمکیوں کے سامنے جھکنے والا بھی نہیں، اور وہ مذاکرات اور بازدارندگی کے امتزاج پر ہی انحصار کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لاریجانی نے نے کہا کہ انہوں نے کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔