Jasarat News:
2026-07-24@00:42:50 GMT

غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مزید 11 فلسطینی شہید

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ میں اسرائیل ڈیفنس فورسز کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیاں جاری ہیں، تازہ فضائی حملوں میں مزید 11 فلسطینی شہید ہوگئے۔

فلسطینی ریڈ کراس کے مطابق اتوار کو شمالی غزہ کی ایک خیمہ بستی پر حملے میں کم از کم 6 جبکہ جنوبی علاقے میں ایک اور حملے میں 5 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یہ کارروائیاں حماس کی جانب سے مبینہ جنگ بندی خلاف ورزیوں کے جواب میں کیں اور مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب اسرائیل اور حماس دونوں 10 اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کے بعد سے ایک دوسرے پر مسلسل خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک کم از کم 600 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اسی ماہ کے آغاز میں غزہ کے مختلف علاقوں میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں کی ایک اور لہر میں کم از کم 32 افراد مارے گئے تھے۔

یہ تازہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کی تیاریاں جاری ہیں، تاہم جاری کشیدگی نے خطے میں امن کی کوششوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم