بھارت میں کشمیری طلبہ کے داخلوں میں 67 فیصد کمی، اصل وجہ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
بھارت میں کشمیری طلبہ کو مبینہ امتیازی سلوک اور عدم تحفظ کے مسائل کا سامنا ہے، جس کے باعث بعض ریاستوں میں ان کے داخلوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
بھارتی اخبار نیو انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ریاست اترکھنڈ میں زیرِ تعلیم کشمیری طلبہ کی تعداد میں تقریباً 67 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ چند برس قبل یہ تعداد تقریباً 6 ہزار تھی جو اب کم ہو کر لگ بھگ 2 ہزار رہ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2019 کے پلواما واقعے کے بعد کشمیری طلبہ کے خلاف امتیازی رویوں اور ہراسانی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بعض طلبہ اور تاجروں نے عدم تحفظ کے باعث دیگر ریاستوں میں منتقل ہونے یا تعلیم چھوڑنے کا فیصلہ بھی کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول میں مذہبی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کے رجحانات بڑھ رہے ہیں، جس کے اثرات تعلیمی اداروں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔
ناقدین کے مطابق حکمران جماعت بی جے پی کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔
دوسری جانب حکومتی مؤقف یہ ہے کہ ملک میں تمام شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر شہری کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رہے ہیں
پڑھیں:
لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
فائل فوٹوڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نےلاہور میں بلدیاتی الیکشن کی نئی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی ہے، جن میں 159 یونین کونسلز کا اضافہ کیا گیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں، 2015 کے بلدیاتی الیکشن میں لاہور میں 274 یونین کونسلز تھیں۔
ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن لاہور کی ابتدائی فہرست کے مطابق راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسل قائم کی گئی ہیں۔
ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40 اور صدر کینٹ میں 29، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونین کونسل بنائی گئی ہیں۔
لاہور کے شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائر کرسکتے ہیں، حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10 اگست کو جاری ہوگی۔