فضائی طاقت اب صرف جنگ تک محدود نہیں،ایئر مارشل (ر) آصف سلیمان WhatsAppFacebookTwitter 0 16 February, 2026 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس) سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (کَیس) لاہور نے ۱۲ فروری ۲۰۲۶ کو “لڑائی سے ماورا فضائی طاقت: جنگ کے علاوہ عسکری عملیات میں پاک فضائیہ کا کردار” کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد کیا۔ ایک خودمختار تھنک ٹینک کی حیثیت سے کَیس لاہور قومی سلامتی کو اس کے وسیع تر تناظر میں سمجھنے کے خواہاں ماہرین اور عملی میدان سے وابستہ افراد کے لیے علمی تقاریب کا اہتمام کرتا ہے۔ اس تقریب میں جامعات سے وابستہ اساتذہ، دانشوروں، سینئر فوجی افسران اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی۔ کَیس لاہور کے سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ، جناب امیر عبداللہ خان نے افتتاحی کلمات پیش کیے۔

‎کلیدی خطاب ایئر مارشل آصف سلیمان ریٹائرڈ، صدر کَیس لاہور، نے کیا۔ انہوں نے فضائی طاقت کے ارتقا کا جائزہ لیتے ہوئے اسے محض جنگی ہتھیار سے آگے بڑھ کر ہیومن سیکیورٹی کے ایک اہم معاون کے طور پر بیان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی، کمزور انفراسٹرکچر، حکمرانی پر دباؤ اور انسانی بحرانوں نے فضائی طاقت کی عملی اہمیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ فوری فیصلہ سازی کی ضرورت، بنیادی ڈھانچے کی نزاکت، معلوماتی برتری اور موسمیاتی ہنگامی حالات جیسے ساختی عوامل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ایسے مواقع پر فضائی اور خلائی طاقت اکثر سب سے پہلے ردعمل دینے والی قوت بن جاتی ہے۔ انہوں نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں ہیومن سیکیورٹی کے میدان میں پاک فضائیہ کے کردار اور اس کی ادارہ جاتی تطبیق کو بھی اجاگر کیا۔

‎نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے پروفیسر ڈاکٹر شاہین اختر نے اس امر کا تجزیہ پیش کیا کہ روایتی سلامتی کے اداروں نے غیر روایتی چیلنجز کے جواب میں کس طرح اپنی حکمت عملی میں ردوبدل کیا۔ ان کے مطابق حقیقت پسندانہ نظریات نے سلامتی کو ریاستی اور عسکری خطرات تک محدود رکھا اور ماحولیاتی امور کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ تاہم موسمی دباؤ، حکمرانی کی کمزوری اور انسانی بحرانوں نے عملی ضرورت کے تحت ادارہ جاتی تبدیلی کو ناگزیر بنا دیا۔ انہوں نے جنگ کے علاوہ عسکری عملیات کو ایک عملی پُل قرار دیا جو مختلف فریقوں کے درمیان اشتراک کو ممکن بناتا ہے، تاہم اس کے ساتھ انہوں نے شہری بالادستی، واضح اختیارات اور جواب دہ حکمرانی کی اہمیت پر زور دیا تاکہ ادارہ جاتی تجاوز سے بچا جا سکے۔

‎ایئر وائس مارشل ناصر الحق وائیں ریٹائرڈ، ڈائریکٹر کَیس اسلام آباد، نے انسانی امداد اور آفات سے نمٹنے کے میدان میں پاک فضائیہ کے ارتقا پذیر کردار کا تجرباتی جائزہ پیش کیا۔ ابتدائی سیلابی کارروائیوں سے لے کر ۲۰۰۵ کے زلزلے، ۲۰۱۰ کے سیلاب، کووڈ ۱۹ اور حالیہ موسمیاتی ہنگامی حالات تک انہوں نے واضح کیا کہ عملی تجربات نے کس طرح اسٹریٹجک سیکھنے کے عمل اور ادارہ جاتی تطبیق کو فروغ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی قیادت نے انسانی امداد اور آفات سے نمٹنے کی مضبوط بنیاد رکھی جو وقت کے ساتھ پاک فضائیہ کے ادارہ جاتی مزاج کا حصہ بن گئی۔ یہ پیش رفت فضائی نقل و حمل اور ہیلی کاپٹر صلاحیت میں اضافے، طبی سہولیات کے دائرہ کار میں توسیع، ڈیجیٹل رابطہ کاری کے استحکام اور بین الادارہ تعاون کی مضبوطی کے ذریعے ممکن ہوئی۔ موجودہ قیادت اس روایت کو مزید آگے بڑھا رہی ہے۔

‎اختتامی کلمات میں ایئر مارشل آصف سلیمان ریٹائرڈ نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ کے علاوہ عسکری عملیات میں فضائی طاقت کا بڑھتا ہوا کردار سلامتی کے ماحول میں ساختی تبدیلیوں کا مظہر ہے، نہ کہ جنگی تیاری میں کسی کمی کا۔ انہوں نے واضح کیا کہ رفتار، رسائی اور لچک فضائی طاقت کو انسانی سلامتی کے فرائض میں مرکزی حیثیت دیتی ہیں، بشرطیکہ اس کا استعمال واضح نظریے، شہری ہم آہنگی اور اسٹریٹجک بصیرت کے تحت کیا جائے تاکہ قومی استحکام کو مضبوط بنایا جا سکے۔

‎سیمینار کا اختتام ایک بھرپور اور متحرک سوال و جواب نشست پر ہوا جس میں جنگ کے علاوہ عسکری عملیات میں فضائی طاقت کے مؤثر استعمال کے لیے نظریاتی وضاحت، ادارہ جاتی تطبیق اور بین الادارہ ہم آہنگی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ شرکاء نے کَیس لاہور کی اس کاوش کو سراہا جس نے ایک سنجیدہ اور فکر انگیز بحث کو فروغ دیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجہلم: انجینئر محمد علی مرزا پر مبینہ قاتلانہ حملہ کرنے والا شخص گرفتار جہلم: انجینئر محمد علی مرزا پر مبینہ قاتلانہ حملہ کرنے والا شخص گرفتار اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے کو ریاستی ملکیت قرار دینے کی منظوری دیدی بنوں میں تھانہ میریان کے باہر بم دھماکا، بچے سمیت 2 افراد جاں بحق، متعدد زخمی غزہ میں بورڈ آف پیس ممالک کے ہزاروں فوجی اہلکار تعینات ہوں گے، ٹرمپ کا بڑا اعلان شعیب اختر کی محسن نقوی پر کڑی تنقید، بھارت سے شکست کے بعد پی سی بی پر سوالات اٹھا دیے امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ طویل جنگ کی تیاری کر رہی ہے، خبرایجنسی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ایئر مارشل

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا