تعمیرات کی صنعت اور حکمرانوں کی معاشی بصیرت
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260216-03-3
دنیا کی معاشی لغت میں ایک سنہرا اصول درج ہے کہ جب معیشت سست پڑ جائے، جب بازاروں میں خریدار کم اور دکانوں پر اداسی زیادہ ہو، جب فیکٹریوں کی چمنیوں سے دھواں اُٹھنا کم ہو جائے تو حکومتیں اینٹ اور سیمنٹ کا سہارا لیتی ہیں۔ امریکا نے کساد بازاری میں ہاؤسنگ منصوبے شروع کیے، چین نے شہروں پر شہر آباد کر دیے، خلیجی ریاستوں نے بحران میں بھی تعمیراتی کرینوں کو رُکنے نہ دیا۔ انہیں معلوم ہے کہ تعمیرات وہ درخت ہے جس کی جڑ میں پانی ڈالو تو شاخوں پر درجنوں صنعتیں ہری ہو جاتی ہیں۔ یہ شاعرانہ مبالغہ نہیں بلکہ معاشی حقیقت ہے کہ تعمیراتی شعبہ پینتیس صنعتوں کو براہ راست اور ستر سے زائد کو بالواسطہ زندگی دیتا ہے۔ سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، پینٹ، سینیٹری ویئر، کیبل، فرنیچر، ٹرانسپورٹ، بینکنگ اور انشورنس سب اسی ایک شعبے کے ساتھ سانس لیتے ہیں۔ جب تعمیرات چلتی ہے تو صرف اینٹ نہیں بکتی بلکہ مزدور کی دیہاڑی بنتی ہے، فیکٹری کی چمنی جلتی ہے اور بازار میں خرید و فروخت بڑھتی ہے۔ لیکن پاکستان میں معاشی فلسفہ شاید الٹا پڑھایا جاتا ہے۔ دنیا بحران میں تعمیرات کو سہارا دیتی ہے مگر ہم نے تعمیرات کو بحران کا سہارا بنا دیا۔ قرضوں پر بھاری مارک اپ ، مہنگائی آسمان پر، ڈالر بے قابو اور ایسے میں پراپرٹی اور تعمیراتی شعبے پر ٹیکسوں کی بارش۔ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کیپیٹل گین ٹیکس کی سختی، ویلیوایشن ریٹس میں اضافہ اور فائلرز اور نان فائلرز کے درمیان ایسا فرق جیسے شہری نہیں بلکہ مجرم ہوں جنہیں سزا دینا مقصود ہو۔ اور پھر دلیل یہ کہ آئی ایم ایف نے ریونیو بڑھانے کا کہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ آئی ایم ایف نے یہ بھی تو کہا تھا کہ سرکاری اخراجات کم کرو، شاہ خرچیاں گھٹاؤ اور نظم و ضبط قائم کرو۔ اس حصے پر خاموشی کیوں ہے۔
تعمیرات کے شعبے پر اندھا دھند ٹیکسوں کی بھرمار کا نتیجہ سامنے آنا شروع ہو چکا ہے۔ فیصل آباد میں تقریباً ایک سو پچاس صنعتیں بند ہو چکی ہیں۔ ڈیڑھ لاکھ مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں۔ تعمیرات سے جڑے درجنوں صنعتی یونٹ دباؤ میں ہیں اور جو چل رہے ہیں وہ بھی آخری سانسوں پر ہیں۔ چیمبرز آف کامرس دہائیاں دے رہے ہیں، صنعت کار ہاتھ جوڑ رہے ہیں، مزدور دیہاڑی کے انتظار میں کھڑے ہیں مگر حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ مگر شاید رینگنی بھی نہیں چاہیے کیونکہ وطن عزیز میں کارکردگی سے الیکشن نہیں جیتے جاتے۔ جب اقتدار کا دارومدار کارکردگی کے بجائے طاقت کے مراکز کی رضا پر ہو تو پھر معاشی اصلاحات سنجیدگی سے کیوں کی جائیں۔ جب ووٹ کی حرمت سے زیادہ فارم کی اہمیت ہو جائے تو عوامی مفاد پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ جب تعمیرات رکتی ہے تو سب سے پہلے مستری کی دیہاڑی جاتی ہے۔ پھر راج کا گھر خالی ہوتا ہے۔ پھر پینٹر کا برش خشک ہوتا ہے۔ پھر فیکٹری کی چمنی خاموش ہو جاتی ہے۔ اور جب چمنی خاموش ہو جائے تو معیشت کے سینے میں سردی اُتر جاتی ہے۔ غریب محنت کش دن بھر کی مشقت کے بعد صرف دیہاڑی کماتا ہے۔ جب دیہاڑی ختم ہوتی ہے تو اس کے چولہے کی آگ بھی ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ معیشت کا کوئی بھی طالب علم جانتا ہے کہ جب فروخت کم ہو تو قیمت کم کی جاتی ہے۔ ہم نے منڈی سنسان دیکھی تو ٹیکس بڑھا دیا۔ یہ معاشی اصلاح نہیں بلکہ معاشی خودکشی کا راستہ ہے۔ اصل مسئلہ ٹیکس وصولی نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے۔ جب حکومت کو یقین ہو کہ اسے حقیقی معنوں میں جواب دہ نہیں ہونا تو پھر پالیسی عوام کے لیے نہیں بلکہ اقتدار کے لیے بنتی ہے۔
آج صنعتیں ہجرت کر رہی ہیں۔ سرمایہ کار اپنا سرمایہ لے کر باہر جا رہا ہے۔ یہ صرف فیکٹریوں کی بندش نہیں بلکہ اعتماد کی رخصتی ہے۔ جب سرمایہ جاتا ہے تو وہ صرف مشینیں نہیں لے جاتا بلکہ روزگار، مہارت اور امید بھی ساتھ لے جاتا ہے۔ اگر تعمیراتی صنعت کو ریلیف دیا جاتا، قرض سستے کیے جاتے اور ٹیکس میں توازن لایا جاتا تو یہی شعبہ خزانے کو زیادہ ریونیو دے سکتا تھا۔ لیکن محسوس ہوتا ہے کہ مقصد معیشت کو متحرک کرنا نہیں بلکہ وقتی گزارا کرنا ہے۔ جب تک اس ملک میں شفافیت، انصاف اور حقیقی جواب دہی کا نظام قائم نہیں ہوتا تب تک نہ صنعتیں بحال ہوں گی، نہ مزدور کا چولہا روشن ہوگا اور نہ معیشت کا پہیہ رفتار پکڑے گا۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو اینٹ اور سیمنٹ ہی نہیں بلکہ پورا معاشی ڈھانچہ دراڑوں سے بھر جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نہیں بلکہ جاتا ہے جاتی ہے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس