Jasarat News:
2026-06-03@01:24:04 GMT

تعمیرات کی صنعت اور حکمرانوں کی معاشی بصیرت

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260216-03-3
دنیا کی معاشی لغت میں ایک سنہرا اصول درج ہے کہ جب معیشت سست پڑ جائے، جب بازاروں میں خریدار کم اور دکانوں پر اداسی زیادہ ہو، جب فیکٹریوں کی چمنیوں سے دھواں اُٹھنا کم ہو جائے تو حکومتیں اینٹ اور سیمنٹ کا سہارا لیتی ہیں۔ امریکا نے کساد بازاری میں ہاؤسنگ منصوبے شروع کیے، چین نے شہروں پر شہر آباد کر دیے، خلیجی ریاستوں نے بحران میں بھی تعمیراتی کرینوں کو رُکنے نہ دیا۔ انہیں معلوم ہے کہ تعمیرات وہ درخت ہے جس کی جڑ میں پانی ڈالو تو شاخوں پر درجنوں صنعتیں ہری ہو جاتی ہیں۔ یہ شاعرانہ مبالغہ نہیں بلکہ معاشی حقیقت ہے کہ تعمیراتی شعبہ پینتیس صنعتوں کو براہ راست اور ستر سے زائد کو بالواسطہ زندگی دیتا ہے۔ سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، پینٹ، سینیٹری ویئر، کیبل، فرنیچر، ٹرانسپورٹ، بینکنگ اور انشورنس سب اسی ایک شعبے کے ساتھ سانس لیتے ہیں۔ جب تعمیرات چلتی ہے تو صرف اینٹ نہیں بکتی بلکہ مزدور کی دیہاڑی بنتی ہے، فیکٹری کی چمنی جلتی ہے اور بازار میں خرید و فروخت بڑھتی ہے۔ لیکن پاکستان میں معاشی فلسفہ شاید الٹا پڑھایا جاتا ہے۔ دنیا بحران میں تعمیرات کو سہارا دیتی ہے مگر ہم نے تعمیرات کو بحران کا سہارا بنا دیا۔ قرضوں پر بھاری مارک اپ ، مہنگائی آسمان پر، ڈالر بے قابو اور ایسے میں پراپرٹی اور تعمیراتی شعبے پر ٹیکسوں کی بارش۔ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کیپیٹل گین ٹیکس کی سختی، ویلیوایشن ریٹس میں اضافہ اور فائلرز اور نان فائلرز کے درمیان ایسا فرق جیسے شہری نہیں بلکہ مجرم ہوں جنہیں سزا دینا مقصود ہو۔ اور پھر دلیل یہ کہ آئی ایم ایف نے ریونیو بڑھانے کا کہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ آئی ایم ایف نے یہ بھی تو کہا تھا کہ سرکاری اخراجات کم کرو، شاہ خرچیاں گھٹاؤ اور نظم و ضبط قائم کرو۔ اس حصے پر خاموشی کیوں ہے۔

تعمیرات کے شعبے پر اندھا دھند ٹیکسوں کی بھرمار کا نتیجہ سامنے آنا شروع ہو چکا ہے۔ فیصل آباد میں تقریباً ایک سو پچاس صنعتیں بند ہو چکی ہیں۔ ڈیڑھ لاکھ مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں۔ تعمیرات سے جڑے درجنوں صنعتی یونٹ دباؤ میں ہیں اور جو چل رہے ہیں وہ بھی آخری سانسوں پر ہیں۔ چیمبرز آف کامرس دہائیاں دے رہے ہیں، صنعت کار ہاتھ جوڑ رہے ہیں، مزدور دیہاڑی کے انتظار میں کھڑے ہیں مگر حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ مگر شاید رینگنی بھی نہیں چاہیے کیونکہ وطن عزیز میں کارکردگی سے الیکشن نہیں جیتے جاتے۔ جب اقتدار کا دارومدار کارکردگی کے بجائے طاقت کے مراکز کی رضا پر ہو تو پھر معاشی اصلاحات سنجیدگی سے کیوں کی جائیں۔ جب ووٹ کی حرمت سے زیادہ فارم کی اہمیت ہو جائے تو عوامی مفاد پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ جب تعمیرات رکتی ہے تو سب سے پہلے مستری کی دیہاڑی جاتی ہے۔ پھر راج کا گھر خالی ہوتا ہے۔ پھر پینٹر کا برش خشک ہوتا ہے۔ پھر فیکٹری کی چمنی خاموش ہو جاتی ہے۔ اور جب چمنی خاموش ہو جائے تو معیشت کے سینے میں سردی اُتر جاتی ہے۔ غریب محنت کش دن بھر کی مشقت کے بعد صرف دیہاڑی کماتا ہے۔ جب دیہاڑی ختم ہوتی ہے تو اس کے چولہے کی آگ بھی ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ معیشت کا کوئی بھی طالب علم جانتا ہے کہ جب فروخت کم ہو تو قیمت کم کی جاتی ہے۔ ہم نے منڈی سنسان دیکھی تو ٹیکس بڑھا دیا۔ یہ معاشی اصلاح نہیں بلکہ معاشی خودکشی کا راستہ ہے۔ اصل مسئلہ ٹیکس وصولی نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے۔ جب حکومت کو یقین ہو کہ اسے حقیقی معنوں میں جواب دہ نہیں ہونا تو پھر پالیسی عوام کے لیے نہیں بلکہ اقتدار کے لیے بنتی ہے۔

آج صنعتیں ہجرت کر رہی ہیں۔ سرمایہ کار اپنا سرمایہ لے کر باہر جا رہا ہے۔ یہ صرف فیکٹریوں کی بندش نہیں بلکہ اعتماد کی رخصتی ہے۔ جب سرمایہ جاتا ہے تو وہ صرف مشینیں نہیں لے جاتا بلکہ روزگار، مہارت اور امید بھی ساتھ لے جاتا ہے۔ اگر تعمیراتی صنعت کو ریلیف دیا جاتا، قرض سستے کیے جاتے اور ٹیکس میں توازن لایا جاتا تو یہی شعبہ خزانے کو زیادہ ریونیو دے سکتا تھا۔ لیکن محسوس ہوتا ہے کہ مقصد معیشت کو متحرک کرنا نہیں بلکہ وقتی گزارا کرنا ہے۔ جب تک اس ملک میں شفافیت، انصاف اور حقیقی جواب دہی کا نظام قائم نہیں ہوتا تب تک نہ صنعتیں بحال ہوں گی، نہ مزدور کا چولہا روشن ہوگا اور نہ معیشت کا پہیہ رفتار پکڑے گا۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو اینٹ اور سیمنٹ ہی نہیں بلکہ پورا معاشی ڈھانچہ دراڑوں سے بھر جائے گا۔

عبید مغل سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ جاتا ہے جاتی ہے

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان