ناردرن بائی کے قریب واٹر ٹینکر کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوارجاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
ناردرن بائی پاس مائی گاڑی کے قریب تیزرفتارواٹرٹینکرکی ٹکرسے موٹرسائیکل سوارجاں بحق ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق منگھوپیرتھانے کے علاقے ناردرن بائی پاس مائی گاڑی کے قریب تیزرفتار واٹرٹینکرکی ٹکرسے موٹرسائیکل سوارجاں بحق ہو گیا جس کی لاش قانونی کارروائی کے لیے چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی۔
متوفی شخص کی شناخت 29 سالہ محمد بلال ولد عبدالحمید مغل کے نام سے کی گئی۔ متوفی شخص اورنگی ٹاؤن الطاف نگرکارہائشی تھا اوراسکا آبائی تعلق لودھراں سے تھا۔
متوفی شخص شیر شاہ میں کباڑ کی دکان پرملازمت کرتا تھا اورگھرسے شیرشاہ جا رہا تھا کہ ناردرن بائی پاس مائی گاڑی کے قریب تیزرفتارنامعلوم واٹرٹینکرنے اسے ٹکر ماردی جس کے باعث متوفی شخص موقع پرجاں بحق ہوگیا۔
ایس ایچ او منگھوپیر خوش نواز پتافی کے مطابق حادثے کے بعد واٹرٹینکر کا ڈرائیور ٹینکر سمیت موقع پر سے فرارہوگیا ہے جس کی گرفتاری کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد متوفی شخص کی لاش اس کے اہلخانہ کے حوالے کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک