Daily Mumtaz:
2026-07-23@23:24:55 GMT

شان کے رویے پر خاموش نہیں رہوں گا: ناصر ادیب

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

شان کے رویے پر خاموش نہیں رہوں گا: ناصر ادیب

سینئر پاکستانی مصنف، فلم ساز اور پروڈیوسر ناصر ادیب نے اداکار شان شاہد کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ان کے رویے پر خاموش نہیں رہوں گا۔

ناصر ادیب جو ماضی کی سپرہٹ فلم مولا جٹ اور حالیہ بلاک بسٹر دی لیجنڈ آف مولا جٹ کے خالق ہیں، ان دنوں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنی پوڈکاسٹ بھی کر رہے ہیں، ان کی آئندہ پنجابی فلم ’بُلّہ‘ جلد ریلیز کے لیے تیار ہے، جس کی کاسٹ میں شان شاہد، نعیمہ بٹ اور مونا لیزا شامل ہیں۔

حال ہی میں اپنے یوٹیوب چینل پر جاری وی لاگ میں ناصر ادیب نے کہا کہ میں معاف کرنے پر یقین رکھتا ہوں، لیکن جب ناانصافی ظلم میں بدل جائے تو ظالم کے خلاف اعلانِ جنگ کرنا پڑتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ شان شاہد کے خلاف اعلانِ جنگ کیا جائے، جنہوں نے پریس کے سامنے میری تضحیک کی اور ایک لکھاری کی بے عزتی کی۔

انہوں نے بتایا کہ فلم ’بُلّہ‘ کی پریس کانفرنس میں ذاتی مصروفیات کے باعث شریک نہیں ہوا تھا اور پہلے ہی پروڈیوسر کو آگاہ کر دیا تھا کہ میں پریمیئر میں شرکت کروں گا، پریس کانفرنس میں شان شاہد، مونا لیزا، سلیم شیخ اور دیگر فنکار موجود تھے۔

ناصر ادیب کے مطابق جب پریس کانفرنس کے دوران فلم کے رائٹر کے بارے میں سوال کیا گیا تو شان شاہد نے جواب دیا کہ رائٹر کہیں بیٹھا دوسروں کی برائیاں کر رہا ہو گا۔

اس پر ناصر ادیب نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ میں اپنی پوڈکاسٹ میں حقائق بیان کرتا ہوں اور کبھی کسی پر جھوٹے الزامات نہیں لگاتا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں فلم کے ہدایت کار کو شان شاہد کو کاسٹ کرنے سے روکا تھا، کیونکہ وہ سیٹ پر تاخیر سے آتے ہیں، مداخلت کرتے ہیں اور کام کرنا مشکل بنا دیتے ہیں۔

ناصر ادیب نے کہا کہ شان شاہد نے بھارت میں کام نہ کرنے کے بیان پر داد سمیٹی، حالانکہ وہ کام کرنے کے لیے تیار تھے مگر مبینہ طور پر 4 کروڑ بھارتی روپے معاوضہ طلب کیا جو قبول نہیں کیا گیا۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اچھی کہانی اور مضبوط لکھاری کے بغیر ہٹ فلم بنا کر دکھائیں۔

دوسری جانب شان شاہد کی جانب سے تاحال اس بیان پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: شان شاہد کہ میں کہا کہ

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف