Jang News:
2026-07-23@23:26:31 GMT

توشہ خانہ کیس ٹو: رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور نہ کیے جا سکے

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

توشہ خانہ کیس ٹو: رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور نہ کیے جا سکے

  ---فائل فوٹو

توشہ خانہ ٹو کیس میں بانئ پی ٹی آئی کی سزا معطل کر کے ضمانت پر رہا کرنے کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور نہ کیے جا سکے۔

بانئ پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس ٹو اپیل پر بر وقت اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور نہیں کیے گئے۔

توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا

بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو پی پی سی دفعہ 409 کے تحت 7،7 سال قید کی بھی سزا سنائی گئی۔ مجموعی طور پر دونوں کو 17 سال کی سزا سنائی گئی جبکہ ان دونوں کو ایک کروڑ روپے جرمانے کی بھی سزا سنائی گئی ہے۔

رجسٹرار آفس کے مطابق درخواست گزار نے توشہ خانہ ٹو کیس کی مرکزی اپیل پر بر وقت اعتراضات دور نہیں کیے، اپیل پر رجسٹرار کے اعتراضات 7 دن میں دور کرنے تھے۔

کہا گیا کہ بر وقت اعتراضات دور نہ کرنے کا وقت گزر گیا ہے، اپیل پر اعتراض موجود ہے تو سزا معطلی کی درخواست کیسے لگائی جا سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری