شمالی کوریا میں مستقبل کی قیادت کے حوالے سے اہم قیاس آرائیاں جاری ہیں، جہاں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ ملک کے موجودہ رہنما کِم جونگ کی کم عمر بیٹی کِم جُو اے کو ممکنہ طور پر اگلا رہنما بنانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو مستقبل میں اقتدار کے لیے ان کی پھوپھی کِم یو جونگ کے ساتھ مقابلہ بھی ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی ملک کی طاقتور شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔

جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی نیشنل انٹیلیجینس سروس نے حال ہی میں اپنے قانون سازوں کو بند کمرے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کم جُو اے، جن کی عمر تقریباً 13 سال بتائی جاتی ہے، کو باضابطہ طور پر جانشین بنانے کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

بریفنگ میں کہا گیا کہ حکام اس بات پر خاص نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا وہ اس ماہ ہونے والی ورکرز پارٹی کی اہم کانفرنس میں اپنے والد کے ساتھ ہزاروں نمائندوں کے سامنے پیش ہوتی ہیں یا نہیں۔ اس کانفرنس کو شمالی کوریا کی سیاست میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، جہاں مستقبل کے اہداف اور قیادت سے متعلق اہم فیصلے کیے جاتے ہیں۔

کم جو اے پہلی بار نومبر 2022 میں اپنے والد کے ساتھ ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے تجربے کے موقع پر نظر آئیں۔ وہ اپنے والد کے ساتھ فوجی پریڈز، ہتھیاروں کے تجربات، فوجی تنصیبات اور فیکٹریوں کے دوروں میں بھی شریک ہوئیں۔

گزشتہ سال ستمبر میں وہ اپنے والد کے ساتھ چین بھی گئیں، جہاں انہوں نے ایک عالمی جنگ سے متعلق تقریب کے موقع پر چین کی قیادت کے ساتھ ملاقات میں شرکت کی۔ جنوبی کوریا کے حکام کا ماننا ہے کہ اس طرح کے دوروں سے انہیں عوام اور عالمی سطح پر مستقبل کی قیادت کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ابتدا میں جنوبی کوریا کے حکام اور ماہرین کو اس بات پر شک تھا کہ شمالی کوریا جیسے قدامت پسند اور مردوں کے زیر اثر نظام میں کسی لڑکی کو ملک کی قیادت دی جائے گی۔ تاہم کم جُو اے کی مسلسل اور نمایاں عوامی موجودگی نے اس سوچ کو بدل دیا ہے اور اب انہیں سنجیدگی سے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ بھی ملک کی طاقتور ترین شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کی عمر تقریباً 38 سال ہے اور وہ اس وقت حکمران جماعت ورکرز پارٹی کوریا کی مرکزی کمیٹی میں اہم عہدے پر فائز ہیں۔ انہیں اپنے بھائی کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا ہے اور وہ ملکی پالیسیوں اور حکومتی فیصلوں میں اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔

جنوبی کوریا کے ایک سابق سینئر انٹیلی جنس افسر راہ جونگ یل کے مطابق مستقبل میں اقتدار کے لیے خاندانی سطح پر مقابلہ ہونے کا امکان موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کم یو جونگ کو محسوس ہوا کہ وہ ملک کی قیادت حاصل کر سکتی ہیں تو وہ ضرور اس کی کوشش کریں گی، کیونکہ ان کے پاس ایسا کرنے سے پیچھے ہٹنے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہوگی۔

کم یو جونگ اپنی سخت اور جارحانہ بیانات کی وجہ سے بھی جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے ماضی میں جنوبی کوریا کے دفاعی وزیر کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور خبردار کیا تھا کہ جنوبی کوریا کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے بیانات کو شمالی کوریا کی سرکاری پالیسی کی عکاسی سمجھا جاتا ہے۔

شمالی کوریا کی تاریخ میں اقتدار کے حوالے سے خاندانی سطح پر سخت اور خونی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔ جب کم جونگ اُن نے 2011 میں اقتدار سنبھالا تو کچھ عرصے بعد انہوں نے اپنے طاقتور چچا جنگ سونگ تھیک کو اقتدار کے خلاف سازش کے الزام میں گرفتار کر کے 2013 میں پھانسی دے دی تھی۔ اسی طرح ان کے سوتیلے بھائی کِم جونگ نم کو 2017 میں ملائیشیا کے دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر ایک مہلک کیمیائی مادے کے ذریعے قتل کر دیا گیا تھا۔

ابھی کم جو اے کی باضابطہ نامزدگی کا اعلان نہیں ہوا، لیکن ان کی بڑھتی ہوئی عوامی سرگرمیاں اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ شمالی کوریا میں مستقبل کی قیادت کے لیے تیاری جاری ہے۔ آنے والے دنوں میں ہونے والی سیاسی کانفرنس اور دیگر سرکاری تقریبات سے یہ واضح ہو سکتا ہے کہ ملک کی قیادت آئندہ کس سمت میں جائے گی اور آیا اقتدار خاندانی روایت کے مطابق اگلی نسل کو منتقل کیا جائے گا یا نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اپنے والد کے ساتھ جنوبی کوریا کے شمالی کوریا کی قیادت کے اقتدار کے م یو جونگ کوریا کی ملک کی

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار  تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا  تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک