سانحہ گل پلازہ: جوڈیشل کمیشن نے جاں بحق افراد کے ورثا سے ملاقاتیں شروع کردیں
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک : سانحہ گل پلازہ کیلئے تشکیل جوڈیشل کمیشن نے جاں بحق افراد کے ورثا سے ملاقاتیں شروع کردیں۔
کراچی میں جوڈیشل کمیشن نے سانحے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے ملاقات کی، اس موقع پر سربراہ کمیشن جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ آپ سب شہدا کے لواحقین ہیں، ہم چاہتے تھے آپ سے شروعات کی جائے، ہمیں واقعے میں شہادتوں کا بہت افسوس ہے۔
جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ کمیشن بنانے کا مقصد مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہے، مالی نقصان کی بھرپائی ہوجاتی ہے لیکن جانی نقصان کی نہیں ہوتی، آپ کے لیے کچھ سوالات تیار کیے ہیں، اس سلسلے میں آپ کی معاونت چاہتے ہیں۔
رمضان المبارک میں شاہراہوں پر دسترخوان سجانے والوں کیلئے اہم خبر
انہوں نے ورثا سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو یہاں جواب دیں یا ہائیکورٹ آجائیں، بہت سے لواحقین یہاں نہیں ہیں، چاہیں گے کہ تمام لواحقین اپنے بیانات دیں تاکہ تمام حقائق تک پہنچنے میں آسانی ہو، ہم عوام، حکومت سب سے معلومات مانگ رہے ہیں، چاہتے ہیں ریسکیو ورکرز تک بھی رسائی ملے کیونکہ تمام معلومات کی بنیاد پر جوابات تیار کرنے ہیں۔
دوران ملاقات سانحہ میں جاں بحق ہونے والے شہری عبدالحمید کی والدہ نے جسٹس آغا فیصل کو بتایا کہ میری بیٹے سے بات ہوئی تھی کہ رات تک گھر آجائےگا، ساڑھے 10 بجے بات ہوئی تو پتا چلا آگ لگ گئی ہے، بس نکل رہا ہوں، پھر وہ ایک بچے کو بچانے کیلئے رک گیااور ہمیں ٹکڑوں میں لاشیں ملی۔
ایک اور شہری کے بھائی عبدالعزیز نے بتایا کہ ساڑھے 10 بجے گل پلازہ پہنچا تو وہاں ایک گاڑی فائر بریگیڈ کی پہنچی تھی، ہماری آنکھوں کے سامنے سب کچھ ہورہا تھا، ریسکیو کے لیے آخر میں آئے۔
پی آئی اے کے ریٹائرڈ ملازمین کے لیے میڈیکل سہولیات بند
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ جائے وقوعہ پر ایمبولنسز موجود تھیں؟ اس پر عبدالعزیز نے بتایا کہ ایمبولینس موجود رہیں لیکن اندر کوئی نہیں گیا۔
جسٹس آغا فیصل نے سوال کیا کہ کس چیز سے آگ بجھائی جا رہی تھی؟ عبدالعزیز نے بتایا کہ پانی یا کیمیکل تھا لیکن آگ نہیں بجھ نہیں رہی تھی، جب آگ پر قابو پالیا گیا تو عمارت گرنا شروع ہوگئی تھی۔
جسٹس آغا فیصل نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا گل پلازہ کے دروازے کھلے تھے؟ شہری نے بتایا کہ لوگ کہہ رہے تھے کہ دروازے بند تھے جب کہ گل پلازہ کے صدر کہہ رہے تھے کہ دروازے کھلے تھے۔
پنجاب حکومت نے بیوہ کفالت کارڈ کی منظوری دے دی
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: جسٹس آغا فیصل نے نے بتایا کہ گل پلازہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔