پشاور ہائیکورٹ: خیبرپختونخوا کی اہم شاہراہیں کھلوانے کے لیے رٹ دائر
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
پشاور: پشاور میں خیبرپختونخوا کی اہم شاہراہیں کھلوانے کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں رٹ درخواست دائر کر دی گئی۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی دھرنا پارلیمنٹ کے اندر منتقل، عمران خان کو اسپتال میں داخل نہ کرنے تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے موٹروے، ہائی وے اور دیگر اہم سڑکیں بند کی گئی ہیں، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
درخواست گزار نے کہا ہے کہ سڑکوں کی بندش سے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے، جو آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
مزید پڑھیں: پولیس آپریشن، واٹر کینن کا استعمال، اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی دھرنا ختم
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ روڈ بندش کو غیر قانونی قرار دے کر تمام راستے فوری طور پر کھولنے کا حکم جاری کیا جائے۔
یہ درخواست مسلم لیگ (ن) کی رکن صوبائی اسمبلی ثوبیہ شاہد کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اہم شاہراہیں کھلوانے کے لیے رٹ دائر پشاور ہائیکورٹ پی ٹی آئی دھرنا رکن صوبائی اسمبلی ثوبیہ شاہد مسلم لیگ ن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پشاور ہائیکورٹ پی ٹی ا ئی دھرنا رکن صوبائی اسمبلی ثوبیہ شاہد مسلم لیگ ن کے لیے
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔