ہم نے قتل و غارت بھی کی اور عصمت دری بھی، اسرائیلی فوجی کا آنلائن اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
غزہ میں موجود ایک اسرائیلی فوجی نے لائیو چیٹ کے دوران غزہ کی پٹی میں فلسطینی خواتین اور بچوں کیخلاف اپنے اور اپنے ساتھیوں کے "گھناؤنے جرائم" کے بارے چونکا دینے والا اعتراف کیا ہے اسلام ٹائمز۔ جیف ڈیوڈسن نامی امریکی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے، غزہ کی پٹی میں فلسطینی خواتین اور بچوں کے قتل عام اور انہیں زیادتی کا نشانہ بنانے سمیت انواع و اقسام کے جنگی جرائم کے بارے، غزہ میں موجود ایک اسرائیلی فوجی کے چونکا دینے والے اعترافات نشر کئے ہیں۔ اس حوالے سے شیئر کئے گئے ویڈیو کلپ میں مذکورہ اسرائیلی فوجی عام فلسطینی شہریوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ارتکاب پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے تاکید کرتا ہے کہ "ہم نے قتل عام بھی کیا اور ان کی عصمت دری بھی کی!"
امریکی یوٹیوبر نے مذکورہ ویڈیو کلپ میں اسرائیلی فوجی کے ساتھ اپنی لائیو چیٹ شامل کی ہے جس میں قابض اسرائیلی فوجی وردی پہنے نظر آتا اور اپنے اردگرد ہونے والی تباہی کی تصاویر دکھاتا اور کہتا ہے کہ وہ اس وقت غزہ کی پٹی میں موجود اسرائیلی فوج کے ساتھ تعینات ہے۔ اس دوران جب انٹرویو لینے والے نے تباہ شدہ مکانات کے بارے پوچھا تو اس کا کہنا تھا کہ "یہاں تو کوئی گھر نہیں، ہم نے تمام گھروں کو زمین بوس کر دیا ہے"!
اس لائیو چیٹ کے دوران گفتگو کا رخ عام شہریوں بالخصوص کمسن بچوں کی صورتحال کی جانب مڑ گیا جب اسرائیلی سپاہی نے ایک فلسطینی بچے کی تصویر دکھائی کہ جس کے ہاتھ میں ایک ہتھیار تھا اور دعوی کیا کہ یہ تصویر اُسے ایک گھر سے ملی ہے۔ امریکی یوٹیوبر کی اس بات پر کہ جنگی علاقوں میں بچوں کی موجودگی اُنہیں نشانہ بنانے کا جواز فراہم نہیں کرتی نیز یہ کہ جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے اُسے درست نہیں مانا جا سکتا، اسرائیلی فوجی نے کھل کر اعتراف کیا کہ قابض صیہونی فوج نے "فلسطینی خواتین و بچوں کا قتل عام کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی عصمت دری بھی کی ہے"! - مذکورہ ویڈیو کلپ، قابض اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے عام فلسطینی شہریوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا صرف ایک معمولی سا نمونہ ہے جبکہ جنگ غزہ کے دوران خود صیہونیوں کی جانب سے ہی "انسانیت کے خلاف اپنے جرائم" کے بارے کھلم کھلا اعترافات کا سلسلہ ہنوز جاری ہے جن کے دوران قابض صیہونی نہ صرف شرمندگی کا اظہار نہیں کرتے بلکہ اپنے گھناؤنے جنگی جرائم پر فخر کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ اس بارے مبصرین کا کہنا ہے کہ اس امر کی ایک بڑی وجہ، مسلم و موثر ممالک کی مجرمانہ خاموشی نیز بین الاقوامی نظام اور بڑی طاقتوں کی جانب سے قابض و سفاک صیہونیوں کو حاصل "سزا سے استثنی" ہے۔
قبل ازیں فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری اور ان کی لوٹ مار وغیرہ پر مبنی قابض اسرائیلی فوج کے جرائم سے متعلق، خود اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے ضبط کردہ متعدد ویڈیو کلپس بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے رہے ہیں جن کے بارے مبصرین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بیانات، قابض و سفاک اسرائیلی افواج کے لئے "استثنی کے احساس" کی نشاندہی کرتے ہیں۔ -
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوجی کی جانب سے کے دوران کے بارے بھی کی
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔