Islam Times:
2026-06-02@22:04:40 GMT

ہم نے قتل و غارت بھی کی اور عصمت دری بھی، اسرائیلی فوجی کا آنلائن اعتراف

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

ہم نے قتل و غارت بھی کی اور عصمت دری بھی، اسرائیلی فوجی کا آنلائن اعتراف

‍‍‍‍‍‍

غزہ میں موجود ایک اسرائیلی فوجی نے لائیو چیٹ کے دوران غزہ کی پٹی میں فلسطینی خواتین اور بچوں کیخلاف اپنے اور اپنے ساتھیوں کے "گھناؤنے جرائم" کے بارے چونکا دینے والا اعتراف کیا ہے اسلام ٹائمز۔ جیف ڈیوڈسن نامی امریکی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے، غزہ کی پٹی میں فلسطینی خواتین اور بچوں کے قتل عام اور انہیں زیادتی کا نشانہ بنانے سمیت انواع و اقسام کے جنگی جرائم کے بارے، غزہ میں موجود ایک اسرائیلی فوجی کے چونکا دینے والے اعترافات نشر کئے ہیں۔ اس حوالے سے شیئر کئے گئے ویڈیو کلپ میں مذکورہ اسرائیلی فوجی عام فلسطینی شہریوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ارتکاب پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے تاکید کرتا ہے کہ "ہم نے قتل عام بھی کیا اور ان کی عصمت دری بھی کی!"
  امریکی یوٹیوبر نے مذکورہ ویڈیو کلپ میں اسرائیلی فوجی کے ساتھ اپنی لائیو چیٹ شامل کی ہے جس میں قابض اسرائیلی فوجی وردی پہنے نظر آتا اور اپنے اردگرد ہونے والی تباہی کی تصاویر دکھاتا اور کہتا ہے کہ وہ اس وقت غزہ کی پٹی میں موجود اسرائیلی فوج کے ساتھ تعینات ہے۔ اس دوران جب انٹرویو لینے والے نے تباہ شدہ مکانات کے بارے پوچھا تو اس کا کہنا تھا کہ "یہاں تو کوئی گھر نہیں، ہم نے تمام گھروں کو زمین بوس کر دیا ہے"!
اس لائیو چیٹ کے دوران گفتگو کا رخ عام شہریوں بالخصوص کمسن بچوں کی صورتحال کی جانب مڑ گیا جب اسرائیلی سپاہی نے ایک فلسطینی بچے کی تصویر دکھائی کہ جس کے ہاتھ میں ایک ہتھیار تھا اور دعوی کیا کہ یہ تصویر اُسے ایک گھر سے ملی ہے۔ امریکی یوٹیوبر کی اس بات پر کہ جنگی علاقوں میں بچوں کی موجودگی اُنہیں نشانہ بنانے کا جواز فراہم نہیں کرتی نیز یہ کہ جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے اُسے درست نہیں مانا جا سکتا، اسرائیلی فوجی نے کھل کر اعتراف کیا کہ قابض صیہونی فوج نے "فلسطینی خواتین و بچوں کا قتل عام کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی عصمت دری بھی کی ہے"! - مذکورہ ویڈیو کلپ، قابض اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے عام فلسطینی شہریوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا صرف ایک معمولی سا نمونہ ہے جبکہ جنگ غزہ کے دوران خود صیہونیوں کی جانب سے ہی "انسانیت کے خلاف اپنے جرائم" کے بارے کھلم کھلا اعترافات کا سلسلہ ہنوز جاری ہے جن کے دوران قابض صیہونی نہ صرف شرمندگی کا اظہار نہیں کرتے بلکہ اپنے گھناؤنے جنگی جرائم پر فخر کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ اس بارے مبصرین کا کہنا ہے کہ اس امر کی ایک بڑی وجہ، مسلم و موثر ممالک کی مجرمانہ خاموشی نیز بین الاقوامی نظام اور بڑی طاقتوں کی جانب سے قابض و سفاک صیہونیوں کو حاصل "سزا سے استثنی" ہے۔

قبل ازیں فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری اور ان کی لوٹ مار وغیرہ پر مبنی قابض اسرائیلی فوج کے جرائم سے متعلق، خود اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے ضبط کردہ متعدد ویڈیو کلپس بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے رہے ہیں جن کے بارے مبصرین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بیانات، قابض و سفاک اسرائیلی افواج کے لئے "استثنی کے احساس" کی نشاندہی کرتے ہیں۔ -

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیلی فوجی کی جانب سے کے دوران کے بارے بھی کی

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان