data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کرکٹ کے سابق اسٹار محمد یوسف نے کرکٹ میں سیاسی مداخلت کو ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

اپنے بیان میں پاکستان کرکٹ کے سابق اسٹار محمد یوسف نے موجودہ قومی اسکواڈ اور انتظامیہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کرکٹ میں سیاسی مداخلت کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور موجودہ صورتحال کو ملک کی کرکٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین دور قرار دے دیا۔

محمد یوسف نے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ نااہل افراد کو نہ صرف انتظامی عہدوں سے بلکہ ٹیم کے گرد بھی ختم کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک کرکٹ سے سیاسی اثر و رسوخ اور ذاتی مفادات کا مکمل خاتمہ نہیں ہوگا، اس وقت تک وہ مضبوط ٹیم تشکیل نہیں دے سکتے جو ماضی میں پاکستان کا وقار ہوا کرتی تھی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سابق اوپنر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا تھا کہ ٹیم کی حالیہ کارکردگی اور سینئر کھلاڑیوں کی فارم میں کمی تشویشناک ہے۔

محمد یوسف کا کہنا تھا کہ بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی اور شاداب خان کا وقت مکمل طور پر گزر چکا ہے اور اب ٹیم کو نئے پرفارمرز اور جوش و جذبے والے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ملک کے کرکٹ وقار کو بحال کیا جا سکے۔

محمد یوسف نے مزید کہا کہ کمزور ٹیموں کے خلاف معمولی کامیابیوں پر انحصار کرنے کا دور ختم ہو چکا ہے، اور اب ٹیم مینجمنٹ کو نہ صرف کھلاڑیوں کی کارکردگی بلکہ ٹیم کی مجموعی حکمت عملی پر بھی فوری نظرثانی کرنی ہوگی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اتوار کو کھیلے گئے اہم گروپ میچ میں بھارت نے پاکستان کو 61 رنز سے شکست دے کر سپر ایٹ راونڈ کے لیے کوالیفائی کر لیا، جس کے بعد نہ صرف شائقین بلکہ کرکٹ حلقوں میں بھی قومی اسکواڈ کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: محمد یوسف

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی