بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد محمد یوسف کا کرکٹ میں سیاسی مداخلت ختم کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کرکٹ کے سابق اسٹار محمد یوسف نے کرکٹ میں سیاسی مداخلت کو ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
اپنے بیان میں پاکستان کرکٹ کے سابق اسٹار محمد یوسف نے موجودہ قومی اسکواڈ اور انتظامیہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کرکٹ میں سیاسی مداخلت کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور موجودہ صورتحال کو ملک کی کرکٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین دور قرار دے دیا۔
محمد یوسف نے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ نااہل افراد کو نہ صرف انتظامی عہدوں سے بلکہ ٹیم کے گرد بھی ختم کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک کرکٹ سے سیاسی اثر و رسوخ اور ذاتی مفادات کا مکمل خاتمہ نہیں ہوگا، اس وقت تک وہ مضبوط ٹیم تشکیل نہیں دے سکتے جو ماضی میں پاکستان کا وقار ہوا کرتی تھی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سابق اوپنر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا تھا کہ ٹیم کی حالیہ کارکردگی اور سینئر کھلاڑیوں کی فارم میں کمی تشویشناک ہے۔
محمد یوسف کا کہنا تھا کہ بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی اور شاداب خان کا وقت مکمل طور پر گزر چکا ہے اور اب ٹیم کو نئے پرفارمرز اور جوش و جذبے والے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ملک کے کرکٹ وقار کو بحال کیا جا سکے۔
محمد یوسف نے مزید کہا کہ کمزور ٹیموں کے خلاف معمولی کامیابیوں پر انحصار کرنے کا دور ختم ہو چکا ہے، اور اب ٹیم مینجمنٹ کو نہ صرف کھلاڑیوں کی کارکردگی بلکہ ٹیم کی مجموعی حکمت عملی پر بھی فوری نظرثانی کرنی ہوگی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اتوار کو کھیلے گئے اہم گروپ میچ میں بھارت نے پاکستان کو 61 رنز سے شکست دے کر سپر ایٹ راونڈ کے لیے کوالیفائی کر لیا، جس کے بعد نہ صرف شائقین بلکہ کرکٹ حلقوں میں بھی قومی اسکواڈ کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محمد یوسف
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔