کراچی میں شہرقائد کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری کی واردات سامنے آ گئی، جیولری شاپ کی دیوار توڑ کر 30 کروڑ روپے کا سونا لوٹ لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق نامعلوم ملزمان 606 تولے سونا اور 25 لاکھ روپے کے ہیرے لے اڑے، واردات ڈسٹرکٹ ویسٹ کے اقبال مارکیٹ تھانے کی حدود میں معروف جیولری شاپ پر کی گئی۔

متاثرہ تاجر ایوب خان نے واردات کا مقدمہ اقبال مارکیٹ تھانے میں درج کرا دیا، جیولر ایوب خان کے مطابق 12 تاریخ کی شب جیولری شاپ معمول کے مطابق بند تھی۔

14 تاریخ کی صبح کاریگروں نے دکان کھولی تو باکس خالی نکلے، دکان کے پیچھے جا کر دیکھا تو دیوار ٹوٹی ہوئی تھی۔

متاثرہ تاجر کے مطابق ذاتی سونے سے بنا ہوا 7 ہزار 64 گرام سامان غائب تھا جبکہ کچھ ہیرے اور دیگر سامان بھی غائب تھا جس کی مالیت 25 لاکھ روپے بنتی ہے، پولیس کی جانب سے مقدمے کے اندراج کے بعد تفتیش شروع کر دی گئی۔

جیولری شاپ میں واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج سب سے پہلے ایکسپریس نیوز پر سامنے آئی، سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کو دیوار توڑ کر جیولری شاپ میں داخل ہوتے اور متعدد کوششوں کے بعد اندر داخل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ایس ایس پی ویسٹ سے واقعہ کی فوری اور مفصل رپورٹ طلب کرلی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ واردات میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور لوٹے گئے مال کی برآمدگی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں، سی سی ٹی وی فوٹیجز، فرانزک شواہد اور دیگر تکنیکی ذرائع کو بروئے کار لاکر ملزمان تک ہر صورت رسائی حاصل کی جائے۔

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ شہر میں جیولری مارکیٹس اور حساس تجارتی مراکز کی سیکیورٹی مزید مؤثر اور سخت بنائی جائے، ایسے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

https://img.

express.pk/media/videos/WhatsApp Video 2026-02-16 at 1-59-17 PM.mp4

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جیولری شاپ تاریخ کی کے مطابق

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف