بھارت کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے بعد سابق کپتان شاہد آفریدی کا ٹیم میں تبدیلی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے بعد قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے بابراعظم، شاہین آفریدی اور شاداب خان کو باہر بٹھانے کا مطالبہ کردیا۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے رانڈ میں بھارت نے پاکستان کو آسانی سے شکست دے دی، قومی ٹیم کے فاسٹ بالر اور اسپنرز مکمل طور پر ناکام دکھائی دیے۔بعد ازاں، 176 رنز کے تعاقب میں قومی بلے بازوں نے ہمیشہ کی طرح قوم کو مایوس کیا، عثمان خان کے علاوہ کوئی بھی کھلاڑی وکٹ پر زیادہ دیر نہ رک سکا جب کہ 7 کھلاڑی ملکر بھی 20 رنز نہیں بناسکے۔ بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد گفتگو کرتے ہوئے شاہد خان آفریدی نے سینئر کھلاڑیوں کو باہر بٹھاکر نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے کا مطالبہ کردیا۔ سابق کپتان نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو نمبییا کے خلاف اگلے میچ میں بابراعظم، شاہین آفریدی اور شاداب خان کو باہر بٹھاتا، ان کی جگہ باہر بیٹھے نئے لڑکوں کو موقع دیتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سینئرز پلیئرز کب سے کھیل رہے ہیں لیکن اتنے اہم میچ میں اگر یہ کارکردگی نہ دکھائیں تو ٹیم میں ان کی موجودگی کا کوئی فائدہ نہیں، اس سے بہتر باہر بیٹھے نئے لڑکوں کو موقع دینا چاہیے۔ شاہد آفریدی نے کپتان کے فیصلوں پر بھی تنقید کی، ان کا کہنا تھا کہ فہیم اشرف کو بولنگ نہ دینا سمجھ سے بالاتر ہے، جو اپنے ٹرمپ کارڈ عثمان طارق کو 10 اوورز کے بعد کیوں لایا گیا؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔