قانون سازی پر مشاورت ،حکومت کا پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
کوئی بھی سرکاری بل پارلیمان میں پیش کرنے سے پہلے پیپلزپارٹی سے پیشگی مشاورت اور منظوری لازمی قرار دے دی ،فیصلہ ایوان صدر سے بعض بلز کی واپسی کے بعد کیا گیا،میڈیا رپورٹس
شیری رحمان کی سربراہی میں کمیٹی قائم ،مجوزہ قانون سازی پر مشاورت کرے گی، پہلے اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا، وزارت قانون و انصاف کو باقاعدہ ہدایت نامہ بھی جاری لردیا
وفاقی حکومت نے مزید قانون سازی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کو باقاعدہ اعتماد میں لینے کا فیصلہ کرلیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پارلیمان میں کوئی بھی سرکاری بل پیش کرنے سے پہلے پیپلزپارٹی سے پیشگی مشاورت اور منظوری لازمی قرار دی گئی ہے، یہ فیصلہ ایوان صدر سے بعض بلز کی واپسی کے بعد کیا گیا، جس کے بعد حکومت نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ بہتر رابطہ کاری کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا، اس حوالے سے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد کی جانب سے وزارت قانون و انصاف کو باقاعدہ ہدایت نامہ بھی جاری کردیا گیا، وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہدایت نامے میں ہدایت کی گئی ہے کہ پیپلزپارٹی کی منظوری کے بغیر کوئی بھی بل پارلیمان میں پیش نہیں کیا جائے گا۔بتایا گیا ہے کہ حکومت اور پی پی کی مشاورت کے مقصد کے لیے پیپلزپارٹی کی سینئر رہنما شیری رحمان کی سربراہی میں اتحادی جماعتوں پر مشتمل ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جو مجوزہ قانون سازی پر مشاورت کرے گی، نئی حکمت عملی کے تحت پہلے اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا، پھر پیپلزپارٹی کی منظوری حاصل کی جائے گی اور اس کے بعد ہی سرکاری بل پارلیمان میں پیش کیا جائے گا، یہ نیا طریقہ کار فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور آنے والے دنوں میں اس کے عملی نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے، اس اقدام کا مقصد اتحادی حکومت میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور قانون سازی کے عمل کو بلا رکاوٹ آگے بڑھانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اتحادی جماعتوں پارلیمان میں جائے گا کے بعد
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔