وزیراعظم شہباز شریف ویانا میں آسٹرین چانسلر پہنچ گئے، پرتپاک استقبال، گارڈ آف آنر پیش
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: وزیراعظم شہباز شریف ویانا میں آسٹرین چانسلری پہنچ گئے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
آسٹریا کے چانسلر کرسچن سٹاکر نے وزیراعظم شہباز شریف کا استقبالیہ تقریب کے لیے چانسلری پہنچنے پر استقبال کیا، خوش آمدید کہا اور وزیراعظم کا اپنی کابینہ کے ارکان سے تعارف کروایا۔ چانسلری پہنچنے پر وزیراعظم شہباز شریف نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی درج کیے۔
ٹی 20 ورلڈکپ: افغانستان نے یو اے ای کو شکست دیدی
قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے چین کے نئے سال پر چینی صدر شی جن پنگ اور چینی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
اپنے تہنیتی پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ شی جن پنگ اور چین کے عوام کو خوشیوں بھرا نیا سال مبارک ہو، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نیا سال پاکستان اور چین کے درمیان دوستی اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے چینی عوام کی صحت، کامیابی اور خوشحالی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کا تعلق ہمیشہ مضبوط رہا ہے اور آئندہ بھی مزید مستحکم ہوگا۔
فیلڈ مارشل کی یو اے ای کے نائب سربراہ و نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر سے ملاقات
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف اور چین
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔