اسلام آباد میں ای اسٹیمپنگ نظام فعال، کلیکٹر آفس کی جانب سے جاری اسٹامپ وینڈنگ لائسنس منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
اسلام آباد انتظامیہ نے ریونیو کے امور میں شفافیت اور ڈیجیٹائزیشن کو فروغ دینے کے لیے ای اسٹیمپنگ سسٹم کو باقاعدہ طور پر فعال کر دیا ہے، جبکہ ڈسٹرکٹ کلیکٹر آفس کی جانب سے جاری تمام اسٹامپ وینڈنگ لائسنس فوری طور پر منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ اقدام ریونیو سے متعلقہ امور میں شفافیت، استعداد کار اور جدید نظام کے نفاذ کے سلسلے کی کڑی ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ای اسٹیمپنگ سسٹم کے آغاز کے بعد اسلام آباد میں روایتی اسٹامپ وینڈنگ لائسنس برقرار نہیں رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: حکومت کورٹ فیس اور اسٹامپ ڈیوٹی میں 1000 فیصد تک اضافہ واپس لے، پنجاب بار کونسل
آفس آرڈر کے مطابق اس ضمن میں ضروری ہدایات پہلے ہی فیڈرل ٹریژری آفس اسلام آباد اور متعلقہ اداروں کو جاری کی جا چکی تھیں۔ ای اسٹیمپنگ نظام کے نفاذ کے ساتھ ہی سابقہ لائسنس منسوخ تصور ہوں گے۔
Islamabad Administration operationalizes E-Stamping system to enhance transparency and digitization in revenue matters; all stamp vending licences issued by the District Collector’s office stand cancelled with immediate effect pic.
— DC Islamabad (@dcislamabad) February 16, 2026
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نئے نظام سے نہ صرف ریونیو وصولی کے عمل میں شفافیت آئے گی بلکہ جعلسازی اور بے ضابطگیوں کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیمپ اسلام آباد انتظامیہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیمپ اسلام آباد انتظامیہ اسلام آباد
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔