اسلام آباد میں عوامی دسترخوان لگانے کیلیے رجسٹریشن لازمی قرار
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260216-08-11
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) اسلام آباد میں سیکورٹی خدشات کے پیشِ نظر عوامی دسترخوان لگانے کے لیے ضلعی انتظامیہ سے پیشگی رجسٹریشن اور اجازت لینا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق دسترخوان لگانے کے خواہشمند افراد کو مکمل تفصیلات کے ساتھ درخواست جمع کرانا ہوگی، جس کے بعد اسسٹنٹ کمشنرز جگہ کا معائنہ کر کے اجازت نامہ جاری کریں گے۔ اب تک شہر بھر سے 18 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، انتظامیہ جگہ کی نشاندہی اور سیکیورٹی سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے گی، بغیر رجسٹریشن کسی بھی مقام پر دسترخوان لگانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دسترخوان لگانے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔