توشہ خانہ کیس: موجودہ درخواستوں کو مرکزی اپیل کے فیصلے کے بعد دوبارہ مقرر کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے بانئ پی ٹی آئی کے علاج سے متعلق کیس میں 12 فروری کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔
تحریری حکم کے مطابق موجودہ فوجداری درخواستیں غیر مؤثر ہو چکی ہیں، پہلے دو درخواستوں میں چیلنج کیے گئے معاملات ٹرائل کورٹ کے حتمی فیصلے میں ضم ہو چکے ہیں۔
سپریم کورٹ نے توشہ خانہ سے متعلق موجودہ درخواستوں کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا کہ یہ درخواستیں ہائی کورٹ میں مرکزی اپیل کے فیصلے کے بعد دوبارہ مقرر کی جائیں گی۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ 3 رکنی بینچ نے 23 اور 24 اگست 2023ء کے احکامات کے احترام میں سماعت کی۔
خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم کو معائنے کی اجازت دی جائے،
مزید کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف توشہ خانے سے متعلق اپیل ہائی کورٹ میں زیرِ التواء ہے اور درخواست گزار کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے تمام اعتراضات ہائی کورٹ کے سامنے اٹھائے۔
سپریم کورٹ کے مطابق حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ بانئ پی ٹی آئی نے جیل میں لیونگ کنڈیشن پر اطمینان کا اظہار کیا اور ایسی کوئی شکایت نہیں کی جس سے موجودہ سہولتوں سے بڑھ کر کسی اضافی انتظام کی ضرورت ظاہر ہو۔
فرینڈ آف دی کورٹ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس میں بھی لیونگ کنڈیشن سے متعلق اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے، اٹارنی جنرل منصورعثمان اعوان نے بانئ پی ٹی آئی کے بچوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلیفونک رابطے کرانے کی یقین دہانی کرائی۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ عدالت کو بانئ پی ٹی آئی کے جیل میں رہائشی حالات سے متعلق خدشات دور ہو چکے ہیں، سپریم کورٹ کے 24 اگست 2023ء کے حکم میں ظاہر خدشات دور ہو چکے ہیں، 24 اگست 2023ء کے حکم کی تعمیل ہو چکی ہے، زیر سماعت درخواستیں میرٹس کی بنیاد پر غیر موثر ہو چکیں، پہلی 2 درخواستوں میں چیلنج کیے گئے ٹرائل کورٹ کے احکامات 5 اگست 2023ء کے توشہ خانے کے حتمی فیصلے میں ضم ہو چکے، توشہ خانہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو بانیٔ پی ٹی آئی پہلے ہی ہائی کورٹ میں چیلنج کر چکے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ توشہ خانہ ٹرائل کورٹ کے حتمی فیصلے کے بعد مقدمہ منتقل کرنے کی تیسری درخواست بے اثر ہو چکی، ٹرائل کورٹ پر اٹھائے گئے اعتراضات کے خلاف مرکزی اپیل ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے، بانئ پی ٹی آئی کو مزید شکایت ہو تو متعلقہ فورم سے رجوع کریں، درخواست گزار کو اگر کوئی شکایت ہو تو مناسب ہو گا کہ پہلے وہ متعلقہ فورم سے رجوع کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانئ پی ٹی آئی ٹرائل کورٹ کے اگست 2023ء کے سپریم کورٹ توشہ خانہ ہائی کورٹ کے فیصلے کورٹ میں فیصلے کے چکے ہیں ہو چکے
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔