سپریم کورٹ کی شہریوں سے رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے مملکت بھر کے مسلمانوں سے منگل کی شام رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کی اپیل کی ہے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو بلیک لسٹ کرنے کی درخواست خارج کردی
سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی کے مطابق عدالت نے ہدایت کی ہے کہ جو بھی شخص رمضان کا ہلال چاند دیکھے، خواہ ننگی آنکھ سے یا دوربین کی مدد سے، وہ قریبی عدالت میں اپنی شہادت درج کرائے یا رہنمائی کے لیے متعلقہ مرکز سے رابطہ کرے تاکہ گواہی بروقت ریکارڈ کی جا سکے۔
سپریم کورٹ نے اس امید کا اظہار کیا کہ جو افراد چاند دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ اپنے اپنے علاقوں میں قائم کمیٹیوں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ اس کا فائدہ تمام مسلمانوں کو پہنچ سکے۔
مزید پڑھیں:سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کے بچوں کو نوکریاں دینے کی پالیسی پر فیصلہ محفوظ کرلیا
منگل کا دن 29 شعبان کے مطابق ہے۔ اگر منگل کی شام چاند نظر آ گیا تو یکم رمضان بدھ سے ہوگا، بصورتِ دیگر جمعرات سے رمضان المبارک کا آغاز ہوگا اور شعبان کے 30 دن مکمل کیے جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
29 شعبان چاند رمضان المبارک سپریم کورٹ سعودی عرب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چاند رمضان المبارک سپریم کورٹ رمضان المبارک سپریم کورٹ نے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔