ٹی20 ورلڈ کپ میں ایک اور شکست، ’کاش ہم انڈیا کے خلاف بائیکاٹ والے فیصلے پر قائم رہتے‘
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
ٹی 20 ورلڈ کپ کے اہم مقابلے میں بھارت قومی کرکٹ ٹیم نے پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کو 61 رنز سے شکست دے دی، اس شکست کے بعد سوشل میڈیا پر شائقینِ کرکٹ کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ متعدد صارفین نے قومی ٹیم کی کارکردگی پر تنقید کی جبکہ میمز اور طنزیہ تبصروں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
اویس یوسفزئی نے لکھا کہ ہمارے پلیئرز انڈیا کے ساتھ نا کھیلنے کے فیصلے پر قائم رہے۔
ہمارے پلیئرز انڈیا کے ساتھ نا کھیلنے کے فیصلے پر قائم رہے
— Awais Yousaf Zai (@awaisReporter) February 15, 2026
سادات یونس کہتے ہیں کہ بنگلا دیش کو حق مہر دلوانے گئے تھے اور خود بیوہ ہو گئے۔
بنگلا دیش کو حق مہر دلوانے گئے تھے اور خود بیوہ ہو گئے!
— Sadat Younis (@sadat_younis) February 15, 2026
سرمد حمید نے غصے میں کہا کہ ویسے پاکستان کرکٹ ٹیم کی جو حالت ہے انہیں صرف انڈیا کے میچ کا نہیں بلکہ پورے ٹورنامنٹ کا بائیکاٹ کرنا بنتا تھا۔
ویسے پاکستان کرکٹ ٹیم کی جو حالت ہے انہیں صرف انڈیا کے میچ کا نہیں بلکہ پورے ٹورنامنٹ کا بائیکاٹ کرنا بنتا تھا!!! ????
— Sarmad Hameed (@SarmadHameed4) February 7, 2026
وقار ستی نے شاہین آفریدی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ایسے لگ رہا تھا کہ شاہین آفریدی دوسری طرف سے کھیل رہے ہیں۔
ایسے لگ رہا تھا کہ شائین آفریدی دوسری طرف سے کھیل رہے ہیں دو اورز میں 31سکور کھا گئے۔ ????#PAKvIND #INDvsPAK
— Waqar Satti ???????? (@waqarsatti) February 15, 2026
ایک سوشل میڈیا صارف نے رافیل طیاروں کی تصاویر سوشل میڈیا پر لگاتے ہوئے کہا کہ پاکستان بس یہ والے میچ دل و جان سے کھیلتا ہے باقی کرکٹ تو شغل میلہ ہے۔
پاکستان بس یہ والے میچ دل و جان سے کھیلتے ہیں باقی کرکٹ تو شغل میلہ ہے ???? #PAKvIND pic.
— عمران خان (@lmrankhanISP1) February 15, 2026
مسرت نامی صارف نے کہا کہ کھیل میں ہارے پر جنگ میں جیتے۔
کھیل میں ہارے
پر
جنگ میں جیتے ✈️ ✈️ ✈️ ✈️ ✈️ ✈️ ✈️ #PAKvIND
— Mussarat Ahmadzeb (@MussartAhmadzeb) February 15, 2026
ایک اور صارف نے کہا کہ بائیکاٹ ہی کرتے، عزت تو رہ جاتی۔
بائیکاٹ ہی کرتے ہیں عزت تو رہ جاتی #PAKvIND pic.twitter.com/Byr82dRJFC
— Shazz (@Shazia_tauqeer_) February 15, 2026
وجیہہ ثانی نے کہا کہ جس طرح جین زی نے بسنت نہیں دیکھی تھی۔ جین الفا نے پاکستان کو انڈیا سے جیتتے نہیں دیکھا۔
جس طرح جین زی نے بسنت نہیں دیکھی تھی۔
جین الفا نے پاکستان کو انڈیا سے جیتتے نہیں دیکھا
— Wajih Sani (@wajih_sani) February 15, 2026
فواد چوہدری نے لکھا کہ ہماری پرفارمنس کو چھوڑیں اپنے ایمان کی فکر کریں 24 کروڑ کی آ بادی میں سے کسی ایک بندے کی بھی دعا قبول نہیں ہوئی۔ کپتان: سلمان علی آغا (منقول)
ہماری پرفارمینس کو چھوڑیں اپنے ایمان کی فکر کریں 24 کروڑ کی
آ بادی میں سے کسی ایک بندے کی بھی دعا قبول نہیں ہوئی
کپتان: سلمان علی آغا ???? (Copied)
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) February 15, 2026
خیال رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف کھیلے گئے میچ میں پاکستان کو 61 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹ کے نقصان پر 175 رنز بنائے، بھارت کے 176 رنز کے ہدف کے جواب میں پاکستانی ٹیم 18 اوور میں 114 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان انڈیا میچ پاکستان شکست کھیل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان انڈیا میچ پاکستان شکست کھیل
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔