’ہمیں فینز ہو کر شرم آتی ہے، کیا انہیں بھی شرم آتی ہے؟‘ پاکستان کی انڈیا سے شکست پر شائقین کرکٹ برہم
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
ٹی 20 ورلڈ کپ کے اہم مقابلے میں بھارت قومی کرکٹ ٹیم نے پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کو 61 رنز سے شکست دے دی، جس کے بعد شائقین کی بڑی تعداد نے قومی ٹیم کی کارکردگی پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔
میچ دیکھنے کے لیے دبئی، مانچسٹر اور پاکستان سمیت مختلف ممالک سے آنے والے شائقین نے اسٹیڈیم میں ہی قومی ٹیم پر برس پڑے۔ انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں شکست پر کوئی اعتراض نہیں لیکم کم از کم اتنا تو کھیل لیتے کہ وہ فائٹنگ میچ لگتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹیم لڑتے ہوئے ہار جاتی تو انہیں ایک فیصد بھی شکوہ نہ ہوتا۔
'ہمیں فینز ہو کر شرم آتی ہے، کیا انہیں بھی شرم آتی ہے؟' pic.
— Zubair Ali Khan (@ZubairAlikhanUN) February 15, 2026
شائقین کے مطابق وہ ہر سال بیرونِ ملک سے خصوصی طور پر میچ دیکھنے آتے ہیں اور اس مقصد کے لیے خطیر رقم خرچ کرتے ہیں لیکن کارکردگی توقعات کے برعکس رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی شائقین بھی یہ کہہ رہے تھے کہ پاکستانی ٹیم کم از کم اتنا تو کھیلتی کہ فائٹنگ میچ لگتا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک بیٹر کے آؤٹ ہونے سے قبل ہی اگلا کھلاڑی تیار بیٹھا ہوتا ہے کہ یہ واپس آئے گا تو میں جاؤں گا۔ شائقین نے مزید کہا کہ وہ سوشل میڈیا پر دن بھر ٹیم کے دفاع میں بحث کرتے رہتے ہیں لیکن ان کی پرفارمنس یہ ہے اور پھر یہ ہم سے امید رکھتے ہیں کہ اب ہماری تعریف کرو۔ انہوں نے کہا کہ لوگ کمنٹس میں ہمیں گالیاں دیتے ہیں لیکن ٹیم کو شرم ہی نہیں آتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا بمقابلہ پاکستان پاکستان انڈیا میچ پاکستان شکست پاکستانی ٹیم کھیل کولمبو
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا بمقابلہ پاکستان پاکستان انڈیا میچ پاکستان شکست پاکستانی ٹیم کھیل کولمبو
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند