گاڑیوں کے الیکٹرونک پارٹس چوری کرنے والا گروہ پکڑا گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
گاڑیوں کے 200 سے زائد پینل الیکٹرونک پارٹس چوری کرنے والا کار سوار گروہ پکڑا گیا۔
تفصیلات کے مطابق کیماڑی ماڑی پور پولیس کی خفیہ اطلاع پر اہم ٹارگیٹڈ کارروائی کی گئی۔ پینل چوری کی وارداتوں میں ملوث دو رکنی گروہ گرفتار ہوا۔
ملزمان سے اسلحہ اور زیر استعمال کار بھی برآمد کرلی گئی، ملزمان گھروں کے باہر کھڑی قیمتی گاڑیوں کے الیکٹرونک پارٹس چوری کرتے تھے۔
ملزمان گلشن، ڈفینس، بہادرآباد، ناظم آباد سمیت مختلف پوش علاقوں میں وارداتیں کرتے تھے۔گرفتار ملزمان سے 200 سے زائد الیکٹرونک پارٹس چوری کرنے کا انکشاف ہوا۔
ملزمان چوری کیئے جانے والے الیکٹرونک پارٹس حب چوکی پر فروخت کرتے تھے۔ گرفتار ملزمان کی فوٹیج بھی سوشل میڈیا پر آویزاں ہوچکی ہیں۔ ملزمان چوری کی وارداتوں میں کرائے کی کار کا استعمال کرتے تھے۔
گرفتار ملزمان کی شناخت زوہیب اور حسن کے نام سے ہوئی ہے۔ ملزم زوہیب پر 9 سے زائد ڈکیتی، چوری اور اسلحے کے مقدمات درج ہیں۔ گرفتار افغانی ملزم حسن کا بھی مجرمانہ ریکارڈ چیک کیا جارہا ہے۔
کراچی: گرفتار ملزمان سے تفتیش کا عمل جاری ہے، ایس ایس پی کیماڑی امجد احمد شیخ
کراچی: ملزمان کے خلاف تھانہ ماڑی پور میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، امجد احمد شیخ
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گرفتار ملزمان کرتے تھے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک