آبنائے ہرمز میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جنگی مشقیں شروع، خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی اور عسکری کشیدگی کے تناظر میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحری شاخ نے آبنائے ہرمز میں وسیع پیمانے پر بحری مشقوں کا آغاز کر دیا ہے، جنہیں ’اسمارٹ کنٹرول آف دی اسٹریٹ آف ہرمز‘ کا نام دیا گیا ہے، ان مشقوں کا مقصد نہ صرف دفاعی تیاریوں کو جانچنا ہے بلکہ حساس سمندری گزرگاہ کی مؤثر نگرانی اور تحفظ کے لیے عملی حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بنانا بھی ہے۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق ان مشقوں کی براہِ راست نگرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل محمد پاکپور کر رہے ہیں، جو خود فیلڈ میں موجود رہ کر آپریشنل سرگرمیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مشقیں جدید ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس نظام اور بحری جنگی صلاحیتوں کے امتزاج سے انجام دی جا رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق مشقوں کے اہم اہداف میں پاسدارانِ انقلاب بحریہ کی یونٹس کی جنگی تیاریوں کو پرکھنا، آبنائے ہرمز میں درپیش ممکنہ سکیورٹی چیلنجز کے خلاف فوری ردِعمل کی صلاحیت کا جائزہ لینا اور خلیج فارس و بحیرۂ عمان میں ایران کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک حیثیت کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانا شامل ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو بھی عملی طور پر جانچا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فیصلہ سازی کے عمل کو مزید تیز اور مربوط بنایا جا سکے۔
یہ بحری مشقیں ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہیں جب خطے میں عسکری سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کرنے کے اشارے نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، جس کے بعد ایران کی جانب سے اپنی بحری طاقت کا عملی مظاہرہ اہم سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اور یہاں کسی بھی سطح کی عسکری سرگرمی بین الاقوامی سطح پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
ایسے میں ایران کی جانب سے ان مشقوں کا آغاز خطے میں طاقت کے توازن اور اسٹریٹجک پیغام رسانی کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جا رہا ہے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔