نمیبیا کے خلاف پاکستانی ٹیم میں اہم تبدیلیوں کا امکان، ٹیم انتظامیہ شاہین آفریدی اور بابر اعظم سے ناخوش
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
پاکستان کرکٹ ٹیم کے آخری گروپ میچ میں نمیبیا کے خلاف اہم مقابلے سے قبل لائن اپ میں بڑی تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سے شکست: پاکستان کو سپر ایٹ مرحلے میں جانے کے لیے نمیبیا کے خلاف میچ جیتنا ہوگا
بدھ کو کھیلے جانے والے اس میچ میں کامیابی پاکستان کو سپر 8 مرحلے میں پہنچانے کے لیے کافی ہوگی جبکہ بارش سے متاثرہ نتیجہ بھی سنہ 2009 کے ورلڈ چیمپئنز کو اگلے مرحلے تک رسائی دلا سکتا ہے۔
ٹیم مینجمنٹ بعض سینئر کھلاڑیوں کی حالیہ کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے اور نمیبیا کے خلاف میچ میں اہم کھلاڑیوں کو آرام دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ممکنہ طور پر بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی کو آرام کرایا جا سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پلیئنگ الیون میں 2 سے 3 تبدیلیاں متوقع ہیں جس کا مقصد بینچ اسٹرینتھ کو استعمال کرتے ہوئے ٹیم میں نئی توانائی لانا ہے۔
مزید پڑھیے: پاک بھارت میچ: سری لنکا کا پاکستان کے فیصلے پر اظہارِ تشکر
ٹیم حکام نے اہم میچ کے لیے منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ یہ ممکنہ تبدیلیاں اتوار کو بھارت کے خلاف مایوس کن کارکردگی کے بعد زیر غور آئی ہیں۔
پاکستان کا اسپن اٹیک مشکلات کا شکار رہا۔ ابرار احمد نے 3 اوورز میں 38 رنز دیے جبکہ شاداب خان نے اپنے واحد اوور میں 17 رنز دیے اور کوئی وکٹ حاصل نہ کر سکے۔ کپتان سلمان علی آغا نے بعد ازاں اس کارکردگی کو ’آف ڈے‘ قرار دیا۔
فاسٹ بولر شاہین آفریدی نے 2 اوورز میں 31 رنز دیے تاہم ان کو ایک وکٹ مل گئی۔
مزید پڑھیں: ٹی 20 ورلڈ کپ: بنگلادیش کی پاکستانی حمایت پر بھارت تلملا اٹھا
176 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ لائن دباؤ کا شکار ہو گئی اور ٹیم 18 اوورز میں 114 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی یوں میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بھارت میچ کے بعد تبدیلیاں پاکستان اور نمیبیا کا میچ پاکستان کرکٹ ٹیم میں تبدیلیاں ٹی 20 ورلڈ کپ 2026.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک بھارت میچ کے بعد تبدیلیاں پاکستان اور نمیبیا کا میچ پاکستان کرکٹ ٹیم میں تبدیلیاں ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 نمیبیا کے خلاف میچ میں کے لیے
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔