کراچی میں شیعہ سنی رہنماؤں کی ایرانی قونصل جنرل سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
وفد میں شامل نمایاں شخصیات میں حجت الاسلام سید ناظر عباس تقوی، حجت الاسلام عقیل موسی، حجت الاسلام حیدر عباس عابدی، حجت الاسلام اصغر حسین شہیدی، اسد اللہ بھٹو، مولانا عقیل انجم، مولانا قاضی احمد نورانی، علامہ صادق جعفری، سید محمد نقی شامل تھے۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
پاکستان کے شیعہ، سنی اور مختلف مذاہب کے علما، سیاسی رہنماؤں کی رہبر انقلاب اسلامی کی حمایت
پاکستان کے شیعہ، سنی اور مختلف مذاہب کے علما، سیاسی رہنماؤں کی رہبر انقلاب اسلامی کی حمایت
پاکستان کے شیعہ، سنی اور مختلف مذاہب کے علما، سیاسی رہنماؤں کی رہبر انقلاب اسلامی کی حمایت
پاکستان کے شیعہ، سنی اور مختلف مذاہب کے علما، سیاسی رہنماؤں کی رہبر انقلاب اسلامی کی حمایت
پاکستان کے شیعہ، سنی اور مختلف مذاہب کے علما، سیاسی رہنماؤں کی رہبر انقلاب اسلامی کی حمایت
پاکستان کے شیعہ، سنی اور مختلف مذاہب کے علما، سیاسی رہنماؤں کی رہبر انقلاب اسلامی کی حمایت
پاکستان کے شیعہ، سنی اور مختلف مذاہب کے علما، سیاسی رہنماؤں کی رہبر انقلاب اسلامی کی حمایت
پاکستان کے شیعہ، سنی اور مختلف مذاہب کے علما، سیاسی رہنماؤں کی رہبر انقلاب اسلامی کی حمایت
پاکستان کے شیعہ، سنی اور مختلف مذاہب کے علما، سیاسی رہنماؤں کی رہبر انقلاب اسلامی کی حمایت
پاکستان کے شیعہ، سنی اور مختلف مذاہب کے علما، سیاسی رہنماؤں کی رہبر انقلاب اسلامی کی حمایت
پاکستان کے شیعہ، سنی اور مختلف مذاہب کے علما، سیاسی رہنماؤں کی رہبر انقلاب اسلامی کی حمایت
پاکستان کے شیعہ، سنی اور مختلف مذاہب کے علما، سیاسی رہنماؤں کی رہبر انقلاب اسلامی کی حمایت
پاکستان کے شیعہ، سنی اور مختلف مذاہب کے علما، سیاسی رہنماؤں کی رہبر انقلاب اسلامی کی حمایت
پاکستان کے شیعہ، سنی اور مختلف مذاہب کے علما، سیاسی رہنماؤں کی رہبر انقلاب اسلامی کی حمایت
اسلام ٹائمز۔ پاکستان کے علما اور سیاسی رہنماؤں کی ایک نمائندہ وفدنے کراچی میں جمہوری اسلامی ایران کے قونصل جنرل "آقائ اکبر عیسی زادہ" سے ملاقات کی۔ اس وفد میں مختلف مکاتب فکر کے علما، سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور مختلف مذاہب کے نمائندے شامل تھے۔ وفد نے اس ملاقات میں رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے مکمل اظہار یکجہتی کیا اور حالیہ امریکی دھمکیوں اور دشمنانہ بیانیے کو شدید الفاظ میں مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کا یہ رویہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پاکستانی رہنماؤں نے واضح کیا کہ وہ ہر قسم کے حالات میں، خواہ وہ کشیدگی ہو یا مذاکرات کا عمل، رہبر انقلاب کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ایران کی حمایت جاری رکھیں گے۔ایرانی قونصل جنرل نے پاکستانی وفد کے اس واضح مؤقف کو دونوں برادر ممالک کے گہرے اور تاریخی تعلقات کی علامت قرار دیا اور مشکل وقت میں پاکستانی قیادت اور عوام کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ ملاقات کے اختتام پر وفد نے کراچی کے سینکڑوں مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات کے دستخطوں سے مرتب کردہ ایک تاریخی پٹیشن قونصل جنرل کے حوالے کیا، جس میں رہبر انقلاب اسلامی سے مکمل حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا گیا تھا۔ وفد نے درخواست کی کہ یہ پیغام رہبر معظم تک پہنچایا جائے۔ وفد میں شامل نمایاں شخصیات میں حجت الاسلام سید ناظر عباس تقوی، حجت الاسلام عقیل موسی، حجت الاسلام حیدر عباس عابدی، حجت الاسلام اصغر حسین شہیدی، اسد اللہ بھٹو، مولانا عقیل انجم، مولانا قاضی احمد نورانی، علامہ صادق جعفری، سید محمد نقی شامل تھے۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیاسی رہنماؤں کی رہبر انقلاب اسلامی کی حمایت سنی اور مختلف مذاہب کے علما پاکستان کے شیعہ حجت الاسلام
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔