طلال چوہدری : فائل فوٹو 

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ بانی کی رپورٹ آگئی، پی ٹی آئی والوں کو اچھا نہیں لگ رہا ہو گا کہ ان کی صحت ٹھیک ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپوزیشن لیڈر تبدیل کرلیے، وزیر اعلیٰ تبدیل کرکے دیکھ لیا، اب ان کے پاس وکٹم کارڈ کے علاوہ کچھ نہیں بچا۔

طلال چوہدری نے کہا کہ کسی کو کہاں رکھنا ہے کون سی دوا دینی ہے کیا علاج کرنا ہے اس کا فیصلہ ڈاکٹرز کریں گے، یہ فیصلہ نہ مریض خود کر سکتا ہے، نہ وکیل کرسکتا ہے اور نہ ان کی جماعت یہ فیصلہ کر سکتی ہے۔

بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کے معائنہ سے متعلق میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی

میڈیکل رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی صحت کا معائنہ کرنے کیلئے 2 رکنی میڈیکل بورڈ نے اڈیالہ جیل کا دورہ کیا، ڈاکٹر ندیم قریشی اور محمد عارف خان نے ان کی آنکھوں کا چیک اپ کیا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ 40 سال کے بعد اتنی اچھی نظر کسی کی نہیں ہوتی جتنی بانی پی ٹی آئی کی ہے، اللّٰہ تعالیٰ بانی پی ٹی آئی کو صحت دے، ان کی آنکھ پہلے سے بہتر ہے، وہ صحت مند ہیں، پی ٹی آئی والوں کو اچھا نہیں لگے گا کہ بانی پی ٹی آئی کی رپورٹ اچھی کیوں آئی؟، اب اس معاملے میں سپریم کورٹ آف پاکستان اور سینئر ڈاکٹرز شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موٹر وے کیوں بند ہے خیبر پختونخوا حکومت سے پوچھیں،  ان سے پوچھیں کہ اپنے لوگوں کو کیوں تکلیف دے رہے ہیں، نواز شریف تو احتجاج کیلئے سڑک پر نکلے تھے، نواز شریف نے اے سی کمرے اور اس بلڈنگ کے اندر پناہ لیکر اپنی تحریک کا آغاز نہیں کیا تھا، یہ اے سی کمروں میں بہترین عمارت میں صوفوں والے کمروں میں بیٹھے ہیں، یہ مزے سے یہاں بیٹھ کر پراٹھے کھا رہے ہیں، اگر اس سے یہ انقلاب لانا چاہتے ہیں تو ہم مزید پراٹھے بھیجنے کو تیار ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی کی طلال چوہدری نے کہا کہ

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل