بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکولز کا مشن ہر بچے کا اسکول میں داخلہ یقینی بنانا ہے، خالد مقبول صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
تقریب سے خطاب میں وفاقی وزیر تعلیم نے جاگیردارانہ نظام کو بڑی رکاوٹوں میں سے ایک قرار دیا اور نشاندہی کی کہ محدود وسائل دور دراز علاقوں میں تعلیم تک رسائی کو محدود کرتے ہیں، اساتذہ کی غیر حاضری کا مسئلہ بھی تشویشناک ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیق نے نذیر حسین یونیورسٹی، کراچی میں "بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکولز کے سیکھنے والوں میں ٹیچر لرننگ میٹریل/اسکول بیگز کی تقسیم" کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اپنے کلیدی خطاب میں وزیر تعلیم نے کہا کہ BECS کا مشن ہر بچے کا سکول میں داخلہ یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت وزارت تعلیم نے کراچی میں پسماندہ بچوں کو بنیادی ضروریات فراہم کی ہیں۔ وفاقی وزیر کو بتایا گیا کہ حالیہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں تقریبا 25 ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں جب کہ صرف کراچی میں 18 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ یہ مہم سب سے پہلے اسلام آباد میں 2023ء میں شروع کی گئی تھی جہاں 55 دنوں کے اندر 80 ہزار بچوں کو سکولوں میں داخل کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اس تشویشناک صورتحال کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ انہوں نے جاگیردارانہ نظام کو بڑی رکاوٹوں میں سے ایک قرار دیا اور نشاندہی کی کہ محدود وسائل دور دراز علاقوں میں تعلیم تک رسائی کو محدود کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اساتذہ کی غیر حاضری کا مسئلہ بھی تشویشناک ہے۔ وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ قومی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے نوجوانوں کو تعلیم اور جدید علم سے آراستہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم جدید دنیا میں بقا کی کلید ہے اور اعلان کیا کہ حکومت ابتدائی مرحلے سے ہی ڈیجیٹل لرننگ کو فروغ دینے کے لیے طلبا کو کروم بکس فراہم کرنے پر بھی کام کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔