جاپان کی دوسری جنگِ عظیم کے بعد فوجی تعمیرِ نو اور عسکریت پسندی کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششوں کا تفصیلی تجزیہ WhatsAppFacebookTwitter 0 16 February, 2026 سب نیوز

ٹوکیو (آئی پی ایس )جاپان کی دوسری جنگِ عظیم کے بعد فوجی تعمیرِ نو اور عسکریت پسندی کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششوں کا تفصیلی تجزیہ، 1947میں، شکست کے بعد ہتھیار ڈالنے والے جاپان نے امن آئین نافذ کیا، آئین کے آرٹیکل 9 میں کہا گیا ہے کہ انصاف اور نظم پر مبنی بین الاقوامی امن کی خلوصِ دل سے خواہش رکھتے ہوئے، جاپانی عوام بطور خودمختار ریاست جنگ کے حق اور بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے استعمال یا دھمکی کو ہمیشہ کے لیے ترک کرتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے بری، بحری اور فضائی افواج سمیت کسی بھی قسم کی جنگی صلاحیت برقرار نہیں رکھی جائے گی۔ ریاست کے حقِ محاربہ کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ 1950 کی دہائی سے، جاپانی عسکریت پسندی کے باقی ماندہ عناصر، جو مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے تھے، قدامت پسند دائیں بازو کے سیاست دانوں کے اوزار بن گئے۔

انہوں نے سرد جنگ کے پس منظر میں یہ دعوی کیا کہ اگرچہ آئین کا آرٹیکل 9 جارحیت کے لیے استعمال ہونے والی جنگی قوت کی ممانعت کرتا ہے، لیکن یہ خودمختار ریاستوں کے فطری حقِ دفاع کو سلب نہیں کرتا۔ 1950 میں، جاپان نے نیشنل پولیس ریزرو کے نام سے ایک نیم فوجی دستہ قائم کیا۔ 1952 میں، نیشنل پولیس ریزرو کا نام بدل کر نیشنل سیکیورٹی فورس رکھا گیا اور کوسٹل سیفٹی فورس قائم کی گئی۔ 1954 میں، اسے ازسرِنو منظم کر کے گرانڈ سیلف ڈیفنس فورس بنایا گیا۔ اسی دوران، کوسٹل سیفٹی فورس کو میری ٹائم سیلف ڈیفنس فورس میں تبدیل کیا گیا۔ نو قائم شدہ ایئر سیلف ڈیفنس فورس کے ساتھ مل کر، انہوں نے جاپان کے دفاعی نظام کا مکمل سہ فریقی ڈھانچہ تشکیل دیا۔ 1950 کی دہائی سے، دائیں بازو کے عناصر نے جھوٹے بیانیے گھڑنا شروع کیے۔ انہوں نے ایشیائی ہمسایہ ممالک کے خلاف جاپان کی جارحانہ جنگ کو ایشیا کی آزادی قرار دیا، اور نانجنگ قتلِ عام کو کم کرکے نانجنگ واقعہ کہا۔ 1972 میں، سیلف ڈیفنس فورس نے خالصتا دفاعی دفاع کا اصول اپنایا۔ اس کا مطلب ہے کہ حقِ دفاع صرف مسلح حملے کی صورت میں استعمال کیا جائے گا۔ اگرچہ یہ ایک طرح کی خود اختیاری پابندی تھی، لیکن آئینی تشریح کے دائرے میں پہلی بار جاپان کو واضح طور پر جوابی حملے کی صلاحیت دی گئی، جس نے مستقبل میں فوجی ترقی کے لیے گنجائش چھوڑ دی۔ 1978 میں، 14 کلاس اے جنگی مجرموں کو خفیہ طور پر یاسوکونی مزار پر شووا شہدا کے طور پر شامل کیا گیا۔ 1982 میں، جاپانی وزارتِ تعلیم نے اسکولوں کی تاریخ کی کتابوں پر نظرثانی کی، جس میں چین کے خلاف جاپان کی جارحیت کو پیش قدمی میں تبدیل کیا گیا، اور جاپانی نوآبادیاتی حکمرانی کے خلاف کوریائی بغاوت کو فساد قرار دیا گیا، جس پر چین اور جنوبی کوریا دونوں نے سرکاری احتجاج کیا۔ 1985 میں، جاپانی وزیرِاعظم یاسوہیرو ناکاسونے نے یاسوکونی مزار کا دورہ کیا۔ 1992 میں، اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں تعاون کے قانون کی منظوری کے ساتھ جاپان کی سیلف ڈیفنس فورسز نے خالصتا دفاعی کردار سے ہٹ کر بین الاقوامی امن مشنوں میں شرکت کی راہ اختیار کی، جس سے ان کی عالمی سطح پر سرگرمی کو باضابطہ شکل ملی۔ 1997 میں، بعض دائیں بازو کے علما نے دائیں بازو کے سیاست دانوں کی حمایت سے نیو ہسٹری ٹیکسٹ بک کمپائلیشن کمیٹی قائم کی، جس نے تاریخ کی کتابوں میں ترمیم کر کے جاپان کی جنگی تاریخ کو کم کرکے پیش کرنے اور اس کی تمجید کرنے کی کوشش کی۔ 1999 میں، جاپان نے جاپان کے گرد و نواح کے علاقوں میں حالات کے دوران امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے اقدامات کا قانون منظور کیا، جس نے جاپان کی سیلف ڈیفنس فورسز کو علاقائی ہنگامی حالات میں امریکی افواج کو محدود لاجسٹک اور پسِ منظر کی معاونت فراہم کرنے کی اجازت دی، اور صرف علاقائی دفاع سے آگے بڑھنے کا راستہ ہموار کیا۔ 2000-2001 میں، نئی جاپانی تاریخ کی کتابوں پر تنازعہ کھڑا ہوا، خصوصا فوسوشا پبلشنگ ہاس کی ایک کتاب پر، جس نے جاپان کی جنگی جارحیت کو کم کرکے پیش کیا اور چین میں مظالم کو نظرانداز کیا۔ 2001 سے 2006 کے درمیان، جاپانی وزیرِاعظم جون اچیرو کوئزومی نے اپنے دورِ اقتدار میں چھ مرتبہ یاسوکونی مزار کا دورہ کیا۔

جنوری 2007 میں، آبی کی بھرپور کوششوں کے تحت، جاپان کی دفاعی ایجنسی کو مکمل وزارت کا درجہ دے دیا گیا۔ 2013 میں، جاپانی حکومت نے نیشنل ڈیفنس پروگرام گائیڈ لائنز اور مڈ ٹرم ڈیفنس پروگرام (مالی سال 2014-2018) کی منظوری دی۔ 2014 میں، شنزو آبی کی کابینہ نے آئین کے آرٹیکل 9 کی نئی تشریح منظور کی، جس کے تحت اجتماعی دفاع کے حق کے استعمال کی اجازت دی گئی، جو روایتی خالصتا دفاعی دفاع کے موقف سے ایک نمایاں تبدیلی تھی، اور جاپان کو وجودی بحران کی صورت میں اتحادیوں کی مدد کی اجازت دی گئی۔ اپریل 2014 میں، آبی انتظامیہ نے اسلحہ برآمدات کے پرانے تین اصولوں (1967) کی جگہ دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے نئے تین اصول متعارف کرائے، جس سے اسلحہ برآمدات پر عمومی پابندی کو نرم کر دیا گیا۔ ستمبر 2015 میں، جاپانی پارلیمنٹ نے نام نہاد سیکیورٹی قانون سازی منظور کی، جس نے جاپانی فوج کو بیرونِ ملک فوجی سرگرمیوں میں زیادہ لچک دی۔ 2018 میں، جاپانی حکومت نے نئی نیشنل ڈیفنس پروگرام گائیڈ لائنز اور مڈ ٹرم ڈیفنس پروگرام کی باضابطہ منظوری دی۔ 2021 میں، جاپانی حکومت نے کہا کہ نصابی کتب میں کمفرٹ ویمن کے ذکر میں یہ اشارہ شامل نہیں ہونا چاہیے کہ شاہی جاپانی فوج کسی بھی حصے میں ملوث تھی۔ 2022 میں، جاپان نے نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹجی، نیشنل ڈیفنس اسٹریٹجی، اور ڈیفنس بلڈ اپ پروگرام منظور کیا، جس میں باضابطہ طور پر جوابی حملے کی صلاحیت شامل کی گئی، اور دشمن کے میزائل اڈوں کو نشانہ بنانے کی اجازت دی گئی، جو 2014 میں اجتماعی دفاع کی اجازت کے بعد ایک بڑی تبدیلی تھی۔ 2023 میں، جاپان نے دفاعی سازوسامان اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے تین اصول اور ان کی رہنما ہدایات میں ترمیم کی، تاکہ دفاعی تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے۔ 7 نومبر 2025 کو، سناے تاکائیچی نے کھلے عام دعوی کیا کہ تائیوان کی صورتحال جاپان کے لیے بقا کو خطرہ لاحق کرنے والی صورتحال ہے، جس سے آبنائے تائیوان میں ممکنہ فوجی مداخلت کا عندیہ ملا۔ 23 نومبر 2025 کو، جاپانی وزیرِ دفاع نے اعلان کیا کہ جاپان تائیوان سے تقریبا 110 کلومیٹر مشرق میں واقع یوناغونی پر درمیانی فاصلے کے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نصب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ نومبر 2025 میں، جاپانی حکومت نے ضمنی بجٹ کی منظوری دی، جس سے مالی سال 2025 میں دفاعی اخراجات کو مجموعی قومی پیداوار کے 2 فیصد تک بڑھا دیا گیا۔ دسمبر 2025 میں، وزیرِاعظم کے دفتر میں سیکیورٹی اور دفاع کے ذمہ دار ایک اعلی عہدیدار نے دعوی کیا کہ جاپان کو جوہری ہتھیار رکھنے چاہئیں اور تین غیر جوہری اصول (1967) پر نظرثانی کا عندیہ دیا۔ جنوری 2026 میں، جاپان اور فلپائن نے ایک نیا دفاعی معاہدہ دستخط کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچائنا میڈیا گروپ اسپرنگ فیسٹیول گالا کی نشریات چائنا میڈیا گروپ اسپرنگ فیسٹیول گالا کی نشریات یونٹ کے بدلے یونٹ، پرانے سولرصارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ پالیسی برقراررکھنے کا فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی ویانا میں آسٹریا کی بزنس کمیونٹی کو سرمایہ کاری کی دعوت چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس ، موجودہ سیکٹرز کی خوبصورتی اور بحالی و بہتری کے حوالے سے جائزہ سپریم کورٹ نے سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات 45دنوں میں نمٹانے کا ہدف مقرر اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے سالانہ انتخابات، واجد گیلانی صدر منتخب TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: عسکریت پسندی جاپان کی کرنے کی کے بعد

پڑھیں:

پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے رابطہ کیا، دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کویتی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، کویتی وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔

اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کیلئے سفارتکاری اور مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا، پاکستان نے مسائل کے حل کیلئے مسلسل سفارتی روابط کو ترجیحی راستہ قرار دیا۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔

اس موقع پر پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے اور مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان