لبنان کے سابق وزیراعظم سعد حریری کا آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لبنان کے سابق وزیر اعظم سعد حریری نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت آنے والے پارلیمانی انتخات میں حصہ لے گی، انتخابات اسی سال مئی میں متوقع ہیں۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعد حریری نے یہ اعلان اپنے والد کی اکیسویں برسی کے سلسلے میں اپنی جماعت ’’دی فیوچر موومنٹ‘‘ کے حامیوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کے دوران کیا، یہ اجتماع رفیق الحریری کے مزار کے قریب شہداء سکوائر پر منعقد کیا گیا، خیال رہے کہ سعد حریری متحدہ عرب امارات سے بیروت واپس آئے ہیں۔
سعد حریری نے کہا کہ وہ اپنے اعتدال پسندانہ خیالات پر کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے اور تحمل کمزوری نہیں ہوتا، وہ اپنے والد کے راستے پر چل رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ اپنے آپ کو سیاست سے اس وقت پیچھے ہٹا لیا تھا جب لگا کہ ریاستی مفادات کا سمجھوتہ کرنا پڑے گا تو ہم نے سمجھوتہ کرنے کی بجائے خود کو ایک طرف کر لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ فیوچر موومنٹ کا مقصد ایک لبنان اور سب سے پہلے لبنان ہے، ہم اس لبنان کو فرقوں میں نہیں بٹنے دیں گے اور نہ ہی آپس کی جنگوں میں تباہ ہونے دیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ معاہدہ طائف پر پوری طرح عمل ہونا چاہیے اور کسی سیاسی گروہ کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جانا چاہئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ہم طائف معاہدے پر مکمل عمل کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہمارا مطلب ہوتا ہے کہ جنگی ہتھیار صرف ریاست کے ہاتھ میں ہوں گے اور اس کے علاوہ کوئی ہتھیار نہیں رکھ سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔