تو میری بہن ہے میری جان، یہ اسپورٹس شو ہے سیاسی نہیں؛ شعیب اختر بھارتی اینکر پر برہم
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر بھارتی ٹی وی کے ایک اسپورٹس پروگرام میں خاتون اینکر پر برہم ہوگئے۔
اسپورٹس کے پروگرام میں جب خاتون اینکر نے کہا کہ آپ کو دوسرا نظریہ دیکھنا ہوگا تو خاتون اینکر اور شعیب اختر کے درمیان تکرار ہوئی جس پر شعیب اختر نے اینکر سے کہا کہ آپ کسی بھی دھرم سے ہو آپ میری بہن ہو میری جان لیکن یہ سیاسی پروگرام نہیں بلکہ یہ اسپورٹس کا شو ہے ہمیں اسپورٹس کے حوالے سے بات کرنی چاہیے انہوں نے کہا کہ اگر میں بات کرنے پر آیا تو ایک لاکھ باتیں کرنے کو ہیں۔
بھارتی ٹی وی کے پروگرام میں خاتون اینکر سے گفتگو میں شعیب اختر نے کہا کہ میں انڈر 19 کا میچ دیکھنے گیا تھا اور روہت شرما کی تعریف کی تھی ہم نے اس طرح کی مثالیں قائم کرنی ہیں۔
مزید پڑھیںشعیب اختر نے پاکستان کرکٹ کی تباہی کی وجہ بتادی
View this post on Instagramہینڈ شیک کے معاملے پر شعیب اختر نے کہا کہ آپ ہم سے میچ ہی نہ کھیلو، آتے ہو اور ہینڈ شیک نہیں کرتے گورے کیا سوچیں گے کہ یہ دونوں کس طرح کی قومیں ہیں۔
شعیب اختر کا کہنا تھا کہ یہ غلط طریقہ ہے میں کیسے کسی سے ہاتھ نہ ملاؤں، یہ ٹھیک نہیں ہے اگر نہیں کھیلنا تو کھیلو ہی نہیں اور پیسے بھی چھوڑ دو، ہم نے ابھی آئی پی ایل کا ایک سیزن کھیلا اور اس کے بعد نہیں کھیلے اور اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خاتون اینکر نے کہا کہ کہا کہ ا
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔