گورنر سید مہدی شاہ سے نگران وزیر تعلیم کی ملاقات، محکمہ کے امور پر بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ گلگت بلتستان میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے طلبہ کو سازگار ماحول فراہم کرنے اور اداروں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لانے کے لیے مشترکہ اور مؤثر حکمتِ عملی اختیار کی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ اسلام آباد میں گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ سے نگران وزیرِ تعلیم و قانون گلگت بلتستان بہادر علی خان نے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں نگران وزیرِ تعلیم و قانون نے گورنر کو محکمہ تعلیم کی موجودہ کارکردگی، اساتذہ کے استعداد کار میں اضافے کے اقدامات اور درپیش چیلنجز کے حوالے سے بریفنگ دی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں معیاری اور یکساں تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اور پائیدار اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے تعلیم کے شعبے کو صوبے کی ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، تعلیمی نظم و ضبط اور شفافیت کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا اور یقین دہانی کرائی کہ تعلیمی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ گلگت بلتستان میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے طلبہ کو سازگار ماحول فراہم کرنے اور اداروں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لانے کے لیے مشترکہ اور مؤثر حکمتِ عملی اختیار کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔