ہانیہ عامر اور عاصم اظہر کی بڑھتی قربتیں، سابقہ منگیتر کا پیغام سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
اداکارہ میرب علی اور گلوکار عاصم اظہر کی منگنی ختم ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
تین برس تک جاری رہنے والے تعلق کے اختتام کے باوجود مداحوں کی توجہ اس جوڑی پر مرکوز رہی، اور حالیہ دنوں میں عاصم اظہر اور اداکارہ ہانیہ عامر کے درمیان قربتوں کی افواہوں نے اس معاملے کو مزید گرما دیا ہے۔
چند روز قبل عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کی ایک ڈانس ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی، جس کے بعد دونوں کے دوبارہ قریب آنے سے متعلق چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں۔ ویڈیو کے سامنے آتے ہی مداحوں نے قیاس آرائیاں شروع کر دیں کہ شاید دونوں کے درمیان تعلقات ایک بار پھر استوار ہو رہے ہیں۔
اسی دوران میرب علی کی جانب سے شیئر کی گئی ایک انسٹاگرام اسٹوری نے سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ اداکارہ نے اپنی اسٹوری میں ایک تصویر پوسٹ کی جس پر درج تھا ’’میری فکر نہ کرو، اپنی اُن غلطیوں کی فکر کرو جن کا حساب تم پر بڑھتا جا رہا ہے۔‘‘
اگرچہ میرب نے کسی کا نام نہیں لیا، تاہم سوشل میڈیا صارفین اس پیغام کو حالیہ خبروں کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں اور اسے عاصم اظہر کی جانب اشارہ سمجھ رہے ہیں۔
اس مبینہ اشارتی پیغام کے بعد انٹرنیٹ پر مختلف آرا سامنے آئیں۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’’وہ ہمیشہ ہانیہ کا تھا، وہیں واپس چلا گیا۔‘‘ جبکہ ایک اور نے لکھا، ’’تمہیں شکر گزار ہونا چاہیے کہ تم ایک منفی انسان سے بچ گئیں۔‘‘ اس کے برعکس کچھ مداحوں نے میرب علی کے لیے ہمدردی اور حمایت کا اظہار کیا اور انہیں مضبوط رہنے کا مشورہ دیا، جبکہ بعض افراد نے اسے محض ایک عمومی اور ذاتی نوعیت کا پیغام قرار دیا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔