اکشے کمار اپنی زندگی کے کس واقعے پر اب تک شرمندہ ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
بالی ووڈ کے معروف اداکار اکشے کمار نے اپنی زندگی کے ایک ایسے واقعے کا ذکر کیا ہے جس نے انہیں نہ صرف خوفزدہ کیا بلکہ طویل عرصے تک شرمندگی کا احساس بھی دلایا۔
تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط کیریئر میں بے شمار کامیابیاں سمیٹنے والے اس ایکشن اسٹار نے بتایا کہ ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب انہیں لگا کہ معاملہ بگڑ گیا تو ان کا کیریئر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
یہ انکشاف انہوں نے ریئلٹی شو ’وہیل آف فارچون‘‘ کے خصوصی ایپی سوڈ میں کیا۔ دورانِ گفتگو ان سے ان کی زندگی کے سب سے زیادہ ’گجب بے عزتی‘ والے لمحے کے بارے میں سوال کیا گیا، جس پر وہ ماضی کی ایک تقریب یاد کرتے ہوئے سنجیدہ ہو گئے۔
اکشے کمار کے مطابق یہ ایک باوقار اور بڑی پارٹی تھی جہاں ان کے قریبی دوست کی ایک شخص سے تلخ کلامی ہو گئی۔ وہ شخص مسلسل ان کے دوست کو گالیاں دے رہا تھا۔ اداکار نے بتایا کہ انہوں نے متعدد بار اسے روکا اور تنبیہ کی، مگر اس نے اپنی روش نہ بدلی۔ صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کے دوست کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
اداکار نے بتایا کہ انہوں نے چار یا پانچ مرتبہ اسے خبردار کیا، لیکن جب اس نے دوبارہ گالی دی تو وہ خود پر قابو نہ رکھ سکے اور اسے ایک تھپڑ مار دیا۔ تھپڑ اتنا زور دار تھا کہ وہ شخص بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ اس لمحے اکشے کو شدید خوف نے آ لیا اور وہ دل ہی دل میں دعا کرنے لگے کہ کہیں کوئی سنگین مسئلہ نہ کھڑا ہو جائے۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ اس وقت ان کا دوست واقعی شرمندگی اور دکھ سے رو رہا تھا۔ بے ہوش شخص پر پانی ڈالا گیا اور کچھ دیر بعد وہ ہوش میں آ گیا، جس پر اکشے نے سکھ کا سانس لیا۔
اداکار کے بقول، اگر آج ایسا واقعہ پیش آئے تو وہ ہرگز اس طرح ردعمل نہ دیں گے بلکہ خاموشی سے وہاں سے چلے جائیں گے۔ انہوں نے اس لمحے کو اپنی زندگی کا سب سے شرمندگی بھرا تجربہ قرار دیا، جسے وہ بدلنا چاہتے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل انہوں نے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔