گلگت میں ہونے والے احتجاج سابق حکومتوں کیخلاف ریفرنڈم ہے، حفیظ الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کا کہنا تھا کہ سابق دو صوبائی حکومتوں نے گلگت شہر کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا گیا جس کے باعث بجلی، پانی، تعلیم اور صحت کی سہولیات وقت کے ساتھ کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وزیر اعلیٰ و صوبائی صدر پاکستان مسلم لیگ (ن گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے گلگت میں پینے کے صاف پانی اور بدترین لوڈشیڈنگ کے خلاف خواتین و حضرات کے مختلف مقامات پر احتجاج کی صورتحال پر میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ سابق دو صوبائی حکومتوں نے گلگت شہر کے عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا گیا جس کے باعث بجلی، پانی، تعلیم اور صحت کی سہولیات وقت کے ساتھ کم ہوتے جا رہے ہیں، بنیادی سہولیات کیلئے ہونے والے تمام احتجاج سابق حکومتوں کے خلاف ریفرنڈم ہیں۔ بجلی اور پانی حکومتوں کی اولین زمہ داری ہے، برکتوں والا مہینہ رمضان المبارک کی آمد ہے، نگران وزیر اعلی اور چیف سیکرٹری گلگت بلتستان ہنگامی اقدامات کے ذریعے ان مسائل کو حل کریں اور عوام کو ریلیف فراہم کریں۔ مسلم لیگ (ن) ترقی پسند سیاسی جماعت ہے، دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح باریوں پہ نہیں عوامی خدمات پر یقین رکھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دوران جی بی کی تعمیر و ترقی کے میگا منصوبے شروع کئے گئے اور جی بی کا ترقیاتی بجٹ بھی دوگنا کیا گیا، آج ایک دفعہ پھر وفاق میں نون لیگ کی حکومت ہے اور گلگت بلتستان کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جی بی کے عوام کے بنیادی مسائل کا حل مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے۔ مسلم لیگ (ن) آنے والے الیکشن میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ اور پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو اولیت دیتے ہوئے نون لیگ کے منشور اور وژن میں نمایاں مقام دے گی۔ مسلم لیگ (ن) کی سابق صوبائی حکومت نے بجلی بحران کے خاتمے کیلئے ریجنیل گرڈ سمیت دریا پر بڑے بجلی کے منصوبے شروع کئے۔ ان منصوبوں کی تکمیل اولین ترجیح ہے۔ وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کے جی بی کے عوام کیلئے ایک سو میگاواٹ سولر منصوبے کے فوری آغاز اور تکمیل کیلئے اس پروجیکٹ کو سو فیصد فنڈز کی فراہمی سے اس پروجیکٹ کی بروقت تکمیل ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی خصوصی ہدایات کے مطابق 18 میگاواٹ کے سولر پلیٹس کی عوام کو فراہمی کا منصوبہ بھی جاری ہے، اس منصوبے کی تکمیل سے بھی لوڈشیڈنگ کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کیا کہ گلگت شہر کے عوام کیلئے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے ماضی میں بھی بڑے منصوبے دئیے ہیں، گلگت شہر کے عوام کیلئے گریٹر واٹر سپلائی پروجیکٹ کی آپ گریڈیشن کیلئے بھی وفاقی حکومت اربوں مالیت کا پروجیکٹ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو تعمیر و ترقی اور خوشحالی کیلئے مسلم لیگ (ن) ماضی سے بڑھ کے کام کرنے کیلئے پر عزم ہیں۔گلگت بلتستان کے الیکشن قریب ہیں، گلگت بلتستان کے عوام کے ہاتھ میں تعمیر و ترقی اور خوشحالی کی پرچی موجود ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام سے ملتمس ہیں کہ وہ اپنے ووٹ کی پرچی گلگت بلتستان کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی پسند سیاسی جماعت کو دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ترقی اور خوشحالی گلگت شہر کے عوام گلگت بلتستان کے کے عوام کی کے عوام کے مسلم لیگ کے ساتھ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔