کراچی؛ کیماڑی ٹاپو کے قریب گھر سے 6 بچوں کی ماں کی گلا کٹی ہوئی لاش برآمد
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
کراچی:
کیماڑی ٹاپو کے قریب گھر سے خاتون کی گلا کٹی ہوئی لاش ملی ، مقتولہ 6 بچوں کی ماں کی تھی۔
تفصیلات کے مطابق کیماڑی کے علاقے ٹاپو سبحان اللہ مسجد کے قریب گھر سے خاتون کی گلا کٹی خون میں لت پت لاش ملی جس کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر کرائم سین یونٹ کو طلب کر کے شواہد حاصل کرنے کے بعد لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے سول اسپتال منتقل کر دی جہاں مقتولہ کی شناخت 45 سالہ فرضیہ زوجہ عبدالمطلب کے نام سے کی گئی۔
اس حوالے سے ایس ایچ او جیکسن مٹھل نے بتایا کہ مقتولہ 6 بچوں کی ماں تھی جس میں 4 بیٹے اور 2 بیٹیاں شامل ہے اور ان دونوں کی شادی ہوچکی ہے ، جس وقت قتل کی واردات ہوئی خاتون گھر میں اکیلی تھی، ابتدائی طور پر شبہ ہے کہ نامعلوم شخص نے گھر میں داخل ہو کر خاتون کو تیز دھار آلے کے وار سے گلا کاٹ کر قتل کیا اور موقع سے فرار ہوگیا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ مقتولہ کا شوہر روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم ہے جبکہ مقتولہ گھر میں ساس ، سر اور 4 کے بیٹوں کے ہمراہ رہائش پذیر تھی ، 2 بیٹے دوپہر کی شفٹ میں اسکول اور 2 بیٹے مدرسے گئے ہوئے تھے جبکہ گھر پر ساس اور سسر بھی موجود نہیں تھے۔
مذکورہ واردات پیر کی دوپہر یا سہ پہر ہوئی تھی جس کی اطلاع علاقہ مکینوں نے پولیس کو دی تھی، تاہم پولیس علاقہ مکینوں سمیت دیگر اہلخانہ سے واقعے سے متعلق معلومات حاصل کر رہی ہے جبکہ حاصل کیے گئے شواہد کی روشنی میں بھی پولیس مزید چھان بین کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔