پی ٹی آئی کے پاس وکٹم کارڈ کے سوا کچھ نہیں بچا: طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
پی ٹی آئی کے پاس وکٹم کارڈ کے سوا کچھ نہیں بچا:طلال چوہدری
اسلام آباد: (نیوزڈیسک) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ بانی کی رپورٹ آگئی، پی ٹی آئی والوں کو اچھا نہیں لگ رہا ہو گا کہ ان کی صحت ٹھیک ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپوزیشن لیڈر تبدیل کرلیے، وزیر اعلیٰ تبدیل کرکے دیکھ لیا، اب ان کے پاس وکٹم کارڈ کے علاوہ کچھ نہیں بچا۔
طلال چوہدری نے کہا کہ کسی کو کہاں رکھنا ہے کون سی دوا دینی ہے کیا علاج کرنا ہے اس کا فیصلہ ڈاکٹرز کریں گے، یہ فیصلہ نہ مریض خود کر سکتا ہے، نہ وکیل کرسکتا ہے اور نہ ان کی جماعت یہ فیصلہ کر سکتی ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ 40 سال کے بعد اتنی اچھی نظر کسی کی نہیں ہوتی جتنی بانی پی ٹی آئی کی ہے، اللّٰہ تعالیٰ بانی پی ٹی آئی کو صحت دے، ان کی آنکھ پہلے سے بہتر ہے، وہ صحت مند ہیں، پی ٹی آئی والوں کو اچھا نہیں لگے گا کہ بانی پی ٹی آئی کی رپورٹ اچھی کیوں آئی؟، اب اس معاملے میں سپریم کورٹ آف پاکستان اور سینئر ڈاکٹرز شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موٹر وے کیوں بند ہے خیبر پختونخوا حکومت سے پوچھیں، ان سے پوچھیں کہ اپنے لوگوں کو کیوں تکلیف دے رہے ہیں، نواز شریف تو احتجاج کیلئے سڑک پر نکلے تھے، نواز شریف نے اے سی کمرے اور اس بلڈنگ کے اندر پناہ لیکر اپنی تحریک کا آغاز نہیں کیا تھا.
طلال چوہدری نے مزید کہا کہ یہ اے سی کمروں میں بہترین عمارت میں صوفوں والے کمروں میں بیٹھے ہیں، یہ مزے سے یہاں بیٹھ کر پراٹھے کھا رہے ہیں، اگر اس سے یہ انقلاب لانا چاہتے ہیں تو ہم مزید پراٹھے بھیجنے کو تیار ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: طلال چوہدری پی ٹی ا ئی نے کہا کہ
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :