وزیراعظم شہباز شریف نے  آسٹریا کے  چانسلر کرسچئین کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات میں جرمن زبان میں گفتگو کی اور یہ پاکستان کے کسی بھی وزیراعظم کی بیرون ملک دورے پر غیرملکی زبان میں پہلی تقریر ہے۔

 آسٹریا میں فیڈرل چانسلری آمد پر وزیراعظم  شہباز شریف کا پرتپاک خیر مقدم کیا گیا جہاں آسٹریا کے چانسلر کرسچئین اسٹاکر نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ باضابطہ استقبالیہ تقریب کے دوران دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے جبکہ آسٹرین مسلح افواج کے دستے نے وزیرِ اعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ وزیرِ اعظم نے چانسلر کے ہمراہ گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا اور مہمانوں کی کتاب میں تاثرات قلمبند کیے۔

ملاقات کے دوران وزیراعظم نے جرمن زبان میں کہا کہ جناب چانسلر آپ سے دوبارہ ملاقات پر مجھے خوشی ہوئی مجھے آپ کے ساتھ گزشتہ سال نیویارک میں ہونے والی ملاقات یاد ہے، وزیراعظم نے کہا کہ میں آپ کے دور صدارت نیز پاکستان اور آسٹریا کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے میں گہری دلچسپی سے بہت متاثر ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب میں جوان تھا تو آسٹریا آیا تھا میں نے موزارٹ کے شہر سالز برگ اور یہاں ویانا میں شوئن برن محل کا دورہ کیا مجھے گرمائی رہائش گاہ میں خوش آمدید کہا گیا، میں نے ویانا اسٹیٹ کا دورہ کیا جہاں میں نے ویانا کی کافی کا بھی لطف اٹھایا جو شاندار اور عمدہ تھی ۔

لاہور میں ہمارے پاس آسٹریا کے تعاون سے قائم کیا گیا ایک ثقافتی سینٹر بھی ہے جس کا میں پیٹرن ہوں،یہ ثقافتی تعاون پاکستان اور آسٹریا کے درمیان دوستی  کو فروغ دینے میں بہت معاون ہے۔

 وزیراعظم نے کہا کہ میں آپ کے لیے پاکستان کے عوام کی والہانہ نیک تمنائیں اور اپنی حکومت کا واضح پیغام لے کر آیا ہوں۔پاکستان کاروبار کے لیے کھلا ہے اور پاکستان آسٹریا شراکت داری کے نئے مرحلے کے لیے تیار ہے میری حکومت نے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے بہت سے اقدامات کیے ہیں،ہم آسٹریائی دوستوں کو خوش آمدید کہیں گے کہ وہ پاکستان میں موجود وسیع مواقع سے استفادہ کریں۔

مزید پڑھیں

آسٹریا کے دورے میں تجارت، سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون پر توجہ مرکوز رہے گی، وزیراعظم

وزیراعظم نے کہا کہ میں آسٹریا کی جی ایس پی پلس کی بابت پاکستان کی حمایت کا بھی خلوص دل سے شکریہ ادا کرنا چاہوں گا،آئیے ہم مل کر عمومی تجارت، علمی تبادلوں اور نئے پیدا شدہ مواقع سے فائدہ اٹھائیں،ہنر مند مزدور، نقل و حمل اور فنی تربیت ہمارے تعاون کے مرکزی شعبہ جات ہو سکتے ہیں آئیے ہم مل کر غیر قانو نی ہجرت کا مقابلہ  کریں، آئیں ہنر مند پاکستانی نوجوانوں کو آسٹریا میں ملازمتوں تک رسائی فراہم کریں۔

 وزیراعظم نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ کے پہلے سے ہی دیگر ممالک کے ساتھ اسی طرح کے معاہدے موجود ہیں پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے جس میں بلند پہاڑ اور شاندار مناظر ہیں۔ہماری خواہش ہے کہ آپ شعبہ سیاحت کی ترقی میں تعاون کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ جناب چانسلر میں آپ کا بہت بھرپور استقبال کرنے پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں، آنے والے برسوں میں ہمارے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کا متمنی ہوں اور میں آپ کو پاکستان آنے کی دعوت دیتا ہوں اور وہاں آپ کا گرمجوشی سے استقبال کروں گا۔

بعد ازاں وزیرِ اعظم اور آسٹرین چانسلر کے درمیان دوطرفہ اور وفود کی سطح پر ملاقاتیں ہوئیں جن میں باہمی دلچسپی کے امور، اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور دوطرفہ تجارت کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے وفود کی سطح پر مذاکرات میں جرمن زبان میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’جنابِ چانسلر، آپ سے دوبارہ ملاقات پر خوشی ہے، مجھے گزشتہ سال نیویارک میں ہونے والی ملاقات یاد ہے۔‘‘

وزیرِ اعظم نے بعد ازاں پاکستان–آسٹریا بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے آسٹریا کے کاروباری طبقے کو زراعت، آئی ٹی، معدنیات و کان کنی، سیاحت، ٹیکسٹائل و لیدر، قابلِ تجدید توانائی، ہائیڈرو پاور، سولر، بائیو ماس، انجینئرنگ، گرڈ ماڈرنائزیشن اور انڈسٹریل آٹومیشن سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی اور دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں معاشی سفارتکاری، اصلاحات اور دوطرفہ تجارتی روابط کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وزیراعظم نے کہا کہ وفود کی سطح پر آسٹریا کے کے لیے

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو