قائمہ کمیٹی میں اراکین سے پولیس کی بدتمیزی، اپوزیشن دھرنے پر مکالمہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں کمیٹی اراکین سے پولیس کے رویے اور اپوزیشن دھرنے پر مکالمہ ہوا ہے۔
اسلام آباد میں خرم نواز کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا، جس میں رکن کمیٹی نبیل گبول نے کہا کہ اسلام آباد میں ایک ایس ایچ او نے شدید بدتمیزی کی ہے، بتایا جائے کہ اراکین پارلیمنٹ سے کس قسم کا خوف تھا؟
اس پر وزیر مملکت امور داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ ایسے تو ایک ایم این اے نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کی، نامعلوم مسلح افراد یہاں پر آئے ہیں اور وہ اندرجانا چاہتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے دھرنے والوں کو پراٹھے بھیجے، ویسے کہتے ہیں کھانا نہیں، دھرنے والے انکار کردیں کہ پراٹھے نہیں آئے، میرے پاس ویڈیوز ہیں۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نے یہ بھی کہا کہ نامعلوم افراد کو یہاں لایا گیا جن کو گرفتار کیا گیا، پارلیمنٹ کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔
اُن کا کہنا تھا کہ کیمرے کہاں لگانے ہیں اورکہاں نہیں یہ فیصلہ ڈپٹی چیئرمین نے کرنا ہے، آئندہ کمیٹی میں چیئرمین سی ڈی اے آئیں گے، میری بات ہوئی ہے۔
نبیل گبول نے کہا کہ تمام ایم این ایز کو پارلیمنٹ سے باہر نکلنے نہیں دیا گیا، 68 کیمرے لگائے گئے جو بہت پرانے ہیں، چیئرمین سی ڈی اے ہماری کمیٹی میں نہیں آتے۔
چیئرمین کمیٹی خرم نواز نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے واقعہ سے متعلق سب آگاہ ہیں۔
خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ رات ساڑھے 12 بجے 2 لوگ میرے دروازے پر آئے ہیں، اس معاملے پر سختی کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔