ٹی 20عالمی کپ:سری لنکا کی آسٹریلیا کے خلاف شاندار کامیابی، سپر ایٹ مرحلے میں رسائی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کینڈی : ٹی 20 عالمی کپ کے 30 ویں میچ میں سری لنکا نے آسٹریلیا کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر سپر ایٹ مرحلے میں رسائی حاصل کر لی۔
سری لنکا کے شہر کینڈی میں کھیلے گئے اس مقابلے میں میزبان ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 10 وکٹوں کے نقصان پر 181 رنز بنائے اور پوری ٹیم آخری اوور میں آؤٹ ہوگئی۔
آسٹریلیا کی جانب سے ٹریوس ہیڈ نے 56 اور مچل مارش نے 54 رنز اسکور کیے۔ سری لنکا کی بولنگ میں دوشن ہمانتھا نے 3 جبکہ دشمانتھا چمیرا نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔
جواب میں سری لنکا نے 181 رنز کا ہدف نہایت اعتماد کے ساتھ صرف 2 وکٹوں کے نقصان پر 18 اوورز میں حاصل کر لیا۔ نسانکا نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 52 گیندوں پر ناقابل شکست 100 رنز بنائے، جن میں 10 چوکے اور 5 چھکے شامل تھے۔ کوشل مینڈس نے بھی 38 گیندوں پر 52 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔
اس فتح کے ساتھ سری لنکا نے گروپ بی سے سپر ایٹ مرحلے میں جگہ بنا لی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سری لنکا
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔