انجمن امامیہ کے وفد کا دورہ استور، سانحہ ترلائی کے شہداء کے گھروں میں حاضری، لواحقین سے اظہار تعزیت
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
دورے کے دوران وفد نے علامہ سید عاشق حسین الحسینی سے ملاقات کی، ان کی خیریت دریافت کی اور ان سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ ملاقات کے دوران موجودہ علاقائی صورتِ حال، دینی و سماجی امور، امن و امان کی فضا، اور عوام کو درپیش مسائل پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے آج ضلع استور کا دورہ کیا۔ وفد نے سانحہ ترلائی میں شہید ہونے والے شہید ابرار حسین (عیدگاہ استور) اور شہید علی حسن (میکال استور) کے گھروں میں حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی اور شہداء کے خانوادے سے تعزیت کا اظہار کیا۔ وفد نے شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات کی، ان کے دکھ اور غم میں برابر کے شریک ہونے کا اظہار کیا اور صبر جمیل کی تلقین کی۔ دورے کے دوران وفد نے علامہ سید عاشق حسین الحسینی سے ملاقات کی، ان کی خیریت دریافت کی اور ان سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ ملاقات کے دوران موجودہ علاقائی صورتِ حال، دینی و سماجی امور، امن و امان کی فضا، اور عوام کو درپیش مسائل پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ وفد نے اس بات پر زور دیا کہ گلگت بلتستان میں اتحاد بین المسلمین، باہمی ہم آہنگی اور رواداری کے فروغ کے لیے علماء کرام کا کردار نہایت اہم اور کلیدی ہے۔
علامہ سید عاشق حسین الحسینی نے بھی اس موقع پر علاقے میں امن و استحکام کے قیام، نوجوان نسل کی صحیح دینی و اخلاقی تربیت، اور ملی وحدت کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں تمام مکاتبِ فکر کو باہمی احترام اور تحمل کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے تاکہ دشمن عناصر کو انتشار پھیلانے کا کوئی موقع نہ مل سکے۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان کے وفد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تنظیم ہر سطح پر عوامی مسائل کے حل، مذہبی ہم آہنگی کے قیام، اور خطے میں پائیدار امن کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔ وفد نے علماء کرام کی سرپرستی اور رہنمائی کو اپنی کامیابی کا ضامن قرار دیا۔ آخر میں ملک و ملت کی سلامتی، شہداء کے بلندی درجات اور گلگت بلتستان میں دائمی امن و ترقی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان کے دوران شہداء کے وفد نے کی اور کے لیے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔